خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 84

خطابات ناصر جلد دوم ۸۴ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء نور سے حصہ لیا وہ نور دنیا سے کس طرح علیحدہ ہو گیا لیکن یہ ٹھیک ہے کہ بشر کا جو وجو د تھا اس کے لحاظ سے کچھ عرصے کے بعد وفات ہو گئی لیکن بنی نوع انسان کے لئے اتنا عظیم اسوہ آپ نے چھوڑا ہے۔بنی نوع انسان تو جب تک مانے نہیں فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔آپ نے اپنے متبعین ، امت محمدیہ کے لئے اتنا عظیم اسوہ چھوڑا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔بشر کے لحاظ سے بھی ہم آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں یا نور اور سراج منیر کے لحاظ سے آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں بے اختیار ہمارے منہ سے نکلتا ہے اللهم صل على محمد وعلى آل محمد میں نے بتایا ہے کہ اللہ پر جو ہم ایمان لاتے ہیں اس نے قانون قدرت بنایا ہے اور اس کے ذریعہ ہمارے لئے تحقیق اور سائنس میں آگے بڑھنے کے سامان پیدا کئے اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس کی صفت کے، اس قدرت کے ہر جلوہ کا ایک خاص حکم آسمانوں سے نازل ہوگا۔اس کے ذریعہ ہمارے لئے دعا کے سامان پیدا کر دیئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے بشر ہونے کے لحاظ سے قابل تقلید نمونہ اور اسوہ حسنہ ہیں اور نور ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ پاک ہے تمہیں بھی پاک بننا پڑے گا وہ نور ہے تمہیں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حصہ لینا پڑے گا۔پھر تم پیار حاصل کر سکو گے۔اب میں بتاتا ہوں کہ دین محمدی کیا ہے اسے میں ذرا مختصر کر دوں گا۔شریعت محمدیہ قرآن کریم کے ذکر سے میں نے یہ مضمون شروع کیا تھا اور اس کی کچھ بنیادی صداقتیں میں نے بیان کی تھیں لیکن میں ختم اس بات پر کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے جو سینکڑوں احکام، اوامر و نواہی ہیں۔اگر تم ان میں سے ایک کو بھی چھوڑو گے تو تم خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہو گے ہماری زندگیاں قرآنی احکام کے مطابق ڈھلی ہوئی ہونی چاہیں۔دنیا ہمارے خلاف یہ انگلی نہ اٹھا سکے کہ قرآن کریم یہ کہتا ہے اور تم اس پر عمل نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قیامت والے دن قرآن کریم تمہارے اوپر حجت ہوگا یعنی قرآن کریم کے ذریعے سے جو کہ اس کی تعلیم اور شریعت اور احکام اور اوامر و نواہی ہیں تمہیں پر کھا جائے گا۔پس دعا ئیں کرو۔دو قسم کی دعائیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل اور رحمت سے ہمیں قرآنی احکام پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور دوسرے یہ کہ ہم کمزور انسان ہیں