خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 67 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 67

خطابات ناصر جلد دوم ۶۷ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کر دیا ہے تو وہ جو حسن ہمیں نظر آئے گا وہ راجع ہے قادر وتوانا خدا کی طرف۔ابھی نظم بھی پڑھی گئی اور لمبا مضمون ہے دنیا کا ہر حسن راجع ہوتا ہے خدا کی طرف۔اس کا مرجع اور منبع خدا تعالیٰ کی ذات ہے، اس واسطے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ۲ )۔اور ہر احسان کا سر چشمہ اور منبع بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔( در مشین محمود کی آمین صفحه ۳۶) جو کچھ بھی انسان کے پاس ہے جسم کے لحاظ سے یا ذہن کے لحاظ سے یا اخلاق کے لحاظ سے یا روحانیت کے لحاظ سے اگر اللہ تعالیٰ نہ دے تو وہ نہیں ہو سکتا۔یہ بڑا احسان ہے اس سے بڑا احسان ہم پر خدا تعالیٰ کا اور کیا ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم میں یہ اعلان کر دیا کہ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) دنیا جہان کی ، اس عالمین کی ، اس کائنات کی ہر چیز کو حکم دے دیا ہے کہ تمہاری خدمت کرے۔اتنا بڑا احسان ! چھوٹی چھوٹی چیزوں کے اوپر کبھی آدمی اپنے علم پر فخر کرنے لگ جاتا ہے۔شرک کرتا ہے۔کبھی اپنے اثر و رسوخ پر بھروسہ کرتا ہے شرک کرتا ہے۔بڑا پیارا ہے ہمارا مذ ہب اور بڑا ہی محبوب ہے ہمارا آقا اور حقیقت میں وہی محبت کے قابل ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے کہا ہے کہ بوٹ کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی خدا سے مانگو؟ ایک چھوٹا سا تسمہ ایک معمولی چیز ہے کئی دہریہ نہیں گے کہ عجیب حکم دے دیا اور آنکھیں بند کر کے ہنسیں گے کیونکہ دنیا نے ایسے واقعات کو بھی محفوظ رکھا ہے اور اس قسم کی بہت ساری باتیں ہمارے سامنے بھی آتی رہتی ہیں کہ تسمہ ٹوٹ گیا اور انسان نے کہا کہ کیا تمے کے لئے میں خدا کی طرف جاؤں میں آپ جا کر لے لوں گا اور بازار تسمہ خریدنے گیا اور راستے میں کوئی تیز چلانے والا موٹر ڈرائیور تھا اس نے اس کو دھکا دیا۔نیچے لیا اور مار دیا۔دوکان تک بھی نہیں پہنچاوہ شخص۔اور گیا تھا کہ مجھے خدا کی کیا ضرروت ہے میں آپ جا کے تسمہ خرید لوں گا۔تمہیں تو اپنے ہر سانس کے لئے خدا کی ضرورت ہے اور تسمہ تو ایک سانس سے بہر حال زیادہ سانس لے کے ہی انسان کو ملتا ہے ہر حمد خدا کی طرف راجع ہوتی ہے الْحَمْدُ لِلہ۔پھر قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی صفات اور ان صفات میں اس کے جلووں کی بہت تفصیل بتائی ہے۔میں ایک پہلو سے دو بنیادی صفات لے لیتا ہوں ویسے ایک اور پہلو سے دوسری چار بنیادی صفات ہیں۔سورۃ فاتحہ