خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 63

خطابات ناصر جلد دوم ۶۳ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل نے کچھ اصول مدوّن کئے ، سائینسز بنائیں، ان میں سے مثلاً ایک اقتصادیات ہے انسان بڑا پف (puff) ہوا اور بڑے بڑے نوبل پرائز لینے والے اقتصادیات کے ماہر بھی بن گئے۔بڑا انعام دیا انسان نے ان کو عقل کے زور سے ہمارے اقتصادی مسائل حل کرنے کی ، وہ کہتے ہیں ہم میں اہلیت ہے دیکھو کتنے بڑے دماغ پیدا کئے۔اب جب ہم ان دماغوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو چوٹی کا دماغ انگلستان کا اقتصادیات کے معاملے میں چوٹی کا انگلستان کا ماہر اقتصادیات میں آپ اور چوٹی کا ماہر اقتصادیات روس سے لیں اور کوئی مسئلہ ان کے سامنے رکھ دیں۔ہر دو میں ہر دو کے نتائج میں اختلاف ہو گا وہ کہے گا کہ اس کا یہ حل ہے اور و کہے گا نہیں یہ حل ہے۔جب دو انسانی عقلیں ایک جگہ متفق نہیں ہو سکتیں تو انسانی عقل پر ہم بھروسہ کس طرح کر سکتے ہیں۔تو یہ ایک مثال ہے۔ہر علم میں اسی طرح ہے کوئی عقل اگر اس کو الہام اور وحی کی روشنی حاصل نہ ہو تو یہ انسان کے لئے رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے یہ انسانی عقل عذاب بن جاتی ہے۔انسانی عقلوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ایٹم بم انسان کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔آسمان سے فرشتوں نے تو آ کر نہیں کہا تھا انسان کو کہ یہ استعمال کرو۔کس نے تمہیں کہا تھا کہ ایٹم بم کو انسان کی ہلاکت اور جنگ کے فیصلے کرنے کے لئے تم استعمال کرو تمہاری عقل نے کہا۔قرآن کریم نے بالکل یہ نہیں کہا اور نہ خدا نے اپنے فرشتوں کے ذریعے تمہیں یہ پیغام بھیجا۔بنے ہوئے تھے، تمہارے دماغ نے تمہاری عقلوں نے تمہاری مہارتوں نے تمہاری دانائی نے یہ تمہیں مشورہ دیا کہ ایٹم کی طاقت کو انسان کی ہلاکت کے لئے استعمال کرو اور آج مصیبت میں پھنس گئے ہو! کل تو تم نے ایٹم کی طاقت کو ہلاکت کے لئے استعمال کرنے میں اپنی نجات دیکھی اور آج تم کہہ رہے ہو کہ خدا کے لئے کچھ ہونا چاہئے۔خدا کا نام نہیں لیتے عقل کے لئے کچھ ہونا چاہئے ہم تو پھنس گئے ہیں اگر یہ جو ایٹم بم بنائے گئے ہیں اگر یہ استعمال ہو گئے تو اس کرہ ارض پر کوئی جان ہی باقی نہیں رہے گی ، خالی انسان نہیں بلکہ زندگی باقی نہیں رہے گی اور خدا کی شان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں اس عذاب سے کہ اگر تم نے تو بہ نہیں کی اور خدا تعالیٰ نے وہ عذاب تم پر بھیجا تو علاقے کے علاقے کرہ ارض میں وہ ہوں گے جہاں زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔جہاں مچھر بھی زندہ نہیں رہے گا ، جہاں بیکٹیریا بھی