خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 52

خطابات ناصر جلد دوم ۵۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء فکروں سے آزاد کر دیا۔یہ خدا کی شان ہے کہ اس نے پہلے ایک بین الاقوامی منصوبہ ہمارے دماغ میں ڈالا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔چنانچہ باہر کی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی اور یہ جذبہ دیا اور یہ ہمت عطا فرمائی کہ انہوں نے پانچ کروڑ سے زیادہ کے وعدے کر دیے۔وصولیوں کا اندازہ بھی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ آمد ہو جا ئے گی۔اس سے کم نہیں ہوگی۔انشاء اللہ العزیز۔اشاعت لٹریچر : اس وقت میں نے کہا تھا یعنی خدا تعالیٰ نے میرے دماغ میں بات ڈالی مگر پوری طرح وضاحت نہیں تھی کہ جماعت احمدیہ کی کتب کے وسیع تر ضرورتوں کے پیش نظر ہمیں اپنے اس ملک سے باہر کی جماعتوں میں کم از کم دو بڑے پریس کھولنے پڑیں گے تب ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکیں گے اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا اب ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہم اس کی طرف زیادہ توجہ دیں۔باقی جہاں تک کتب کے چھپوانے کا سوال ہے، اس کا تعلق میرے کل کے مضمون سے ہے۔وہ تو میں کل ہی بتاؤں گا۔دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنا اور اس کی تفسیر کرنا پھر دنیا کے ہر خطہ میں تبلیغ کے لئے آدمی بھیجوانا اور وہاں کی زبانیں سکھلانا۔ان باتوں کی اب ہمیں یکدم ضرورت پڑ گئی ہے۔یہ منصوبہ جو ہم نے بنایا ہے، یہ ایک سال کے اندر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ہمیں مختلف زبانوں کے جاننے والے سینکڑوں آدمی در کار ہیں۔چنانچہ اس وقت تک میری ہدایت پر آٹھ دس آدمی زبانیں سیکھ رہے ہیں۔یوگو سلاوین زبان سیکھنے کے لئے بھی آدمی مقرر ہو گیا ہے۔اس وقت وہ زبان سیکھ رہا ہے اور بھی ہیں کچھ یہاں ہیں مثلاً اسلام آباد اور لاہور میں اور کچھ باہر ہیں جو مختلف زبانیں سیکھ رہے ہیں۔پس خدا تعالیٰ ایک بیج ڈال دیتا ہے اور جس وقت وہ بیج نکلتا ہے تو ایک نئی چیز سامنے آتی ہے تو آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اس وقت جلسہ گاہ میں بہت سے زمیندار دوست بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ جب گندم کا بیج ڈالتے ہیں تو ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ گندم کے دانے کے اندر کیا چیز چھپی ہوئی ہے۔پھر وہ ایک تنا نکالتا ہے۔پھر وہ موٹا ہو جاتا ہے جسے انگریزی میں Stock کہتے ہیں۔پھر وہ کو ٹا مارتا ہے جس کے آگے شاخیں نکلتی ہیں پھر اس کا تنا سخت ہوتا جاتا ہے۔کہیں سے موٹا اور کہیں سے باریک اور پھر اس میں دانے بنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایک دانے سے