خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 590
۹۳ ۱۳۵ ۱۴۶ ۱۴۸ ۱۵۰ 19 امت محمد یہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے انسان اپنی کوششوں سے نیکی کے نتائج اور ۲۹۶ روحانی نتائج نہیں نکال سکتا لئے پیدا کی گئی ہے امت مسلمہ میں کوئی شخص بھی اپنی وقتی استعداد کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی انتہا کو پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرتا نہیں ۴۳۸ کی تمام قوتیں اطاعت الہی کے نیچے نہ امت مسلمہ دوسروں کی خیر خواہی اور بھلائی آجائیں کے لئے قائم کی گئی ہے امت محمدیہ کے لئے غیر محدود ترقیات اور ۴۶۲ انسان کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ خندہ پیشانی سے پیش آئے نعمتوں کے حصول کی راہیں کھول دی گئیں ۵۱۴ انسان کا ہر کام بالا رادہ اور موقع اور محل کے کبھی بھی امت مسلمہ کو اپنی دعاؤں میں مطابق ہونا چاہئے نظر انداز نہ کریں انانیت ۵۷۰ انسان خدا کی صفات کے جلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا دنیا انانیت کو چھوڑنے اور خدمت کے مقام انسان کو پینشن کے زمانہ کی تو پرواہ ہے لیکن پر کھڑی ہو انسان زمین کو انسان کا خادم بنایا گیا ہے ۴۶۱ ابدی زندگی کی کوئی پروانہیں انسانی فطرت ہے کہ بعض باتیں اسے دکھ پہنچاتی ہیں انسان کا انسان سے خدا نے تعلق قائم کیا ہے انسان کو خدا نے پیدا ہی جنتوں میں داخل ہر انسان کی خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں کرنے لئے کیا ہے گے اور تلخیاں دور کر دی جائیں گی نوع انسانی کا دل خدا اور محمد عے کے لئے صرف عقل انسان کی ضروریات پورا کرنے تمام تحریکیں نوع انسان کو ایک خاندان جیت لیا جائے گا بنانے میں ناکام ہوں گی انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے لئے کافی نہیں ہے کے ساتھ تعلق پیدا کرے انسان کو اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ہر وقت اور کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسے ۲۸ ہر انسان کی استعدادوں کے کمال نشو و نما ہر آن ضرورت ہے۔۶۵ ملنی چاہیئے ۱۵۷ لا ۱۷۲ ۱۷۴ ۲۰۵ ۲۰۶