خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 589
۱۸ سورۃ الفاتحہ کی چار صفات باری تعالیٰ کا تذکرہ ۲۷۸ ہر ظہور ہر ایک چمکار خدا تعالیٰ کی صفت کی خدا تعالیٰ اگر ربوبیت ایک لحظہ کے لئے بھی اس سے کی طرف نشاندہی کرنے والی ہے علیحدہ ہو جائے تو ختم ہو جائے وہ چیز ۲۷۸ دنیا کے ذرے ذرے میں اور قرآن کریم ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی ربوبیت ترقی دے کر کے لفظ لفظ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے اس کے کمال تک پہنچاتی ہے ۲۷۹ جلوے تلاش کرو زندہ رہنے کے لئے جس چیز کی ضرورت خدا تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنا صحیح عالم بننے ہے وہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے ہر زندہ چیز کے لئے پیدا کردی جس جگہ زندگی پائی جاتی ہے اس جگہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا جلوہ نظر آتا ہے رحمانیت نے زندگی اور حیات کا امکان پیدا کیا رحیمیت کا جو فیضان ہے وہ انسان کی کوشش ۲۸۲ ۲۸۲ کے لئے ضروری ہے اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی چیز پر نازل ہونا بند ہو ۴۴۶ ۴۶۷ ۴۷۰ جائے تو وہ اُس کے لئے موت یا ہلاکت ہے ۵۵۳ ہر چیز اپنے تمام کمالات اور تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق اور ہر صفت اپنے اندر ۵۵۳ ۵۵۴ ۵۶۷ ۲۳۸ ۲۱۴ ۱۶ کو ثمر آور کرتا ہے اور ضیاع سے بچاتا ہے رحیمیت کے جلوہ میں سعی اور کوشش کے اوپر نتیجہ نکالتا ہے ۲۸۴ ۲۸۴ کمالیت رکھتی ہے وراء الوراء مرتبہ اور جو تنزیہی صفت ہے اللہ تعالیٰ کی اس کو ہم عرش کہتے ہیں السلام علیکم خدا تعالیٰ کی ربوبیت تدریجی ترقی دیتے ہماری فضا کو تو ہمیشہ السلام علیکم اور وعلیکم السلام ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کسی قسم کا نقص اور کمی اپنے اندر نہیں رکھتی ۲۸۷ ۲۸۷ کی آوازوں سے گونجتے رہنا چاہیئے الہام بغیر الہام کے رفیق کے عقل کسی نتیجہ پر پہنچ خدا جو بادشاہ بھی ہے، پاک بھی،سب خوبیوں ہی نہیں سکتی کا جامع بھی ہے غالب اور حکمت والا بھی ہے ۴۴۱ ۴۴۱ امت محمدیہ وہ عزیز اور حکیم خدا آخرین میں سے ایک کو امت محمدیہ کو امت واحدہ بنانے کا کام عملاً چنے گا اور اسے مہدی بنادے گا ۴۴۳ | آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا