خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 48
خطابات ناصر جلد دوم ۴۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور الْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ للہ پڑھیں۔یہ ایک کروڑ بائیس لاکھ روپے کی جو رقم ہے یہ جماعت نے تو نہیں دی تو پھر آئی کہاں سے؟ میں بتا تا ہوں کہ یہ کہاں سے آئی۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔خدا کے کام تھے۔اس نے ان کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیئے اور یہ رقم آگئی۔ہمارے دل خدا کے شکر سے لبریز اور خدمت خلق کے جذبہ سے معمور ہیں۔نائیجیریا کا ایک صوبہ سوکوٹو ہے وہاں کے گورنر نے اعلان کیا کہ اس کے صوبہ میں مسلمانوں کی بہت بھاری اکثریت ہے قریباً 99 فیصد مسلمان ہیں لیکن وہ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اس لئے لوگ ان کی تعلیمی ترقی میں حکومت کی مدد کریں۔یہ ۱۹۷۰ء کی بات ہے میں اس وقت نائیجیریا میں تھا۔اگلی صبح میں نے ایک احمدی نائیجیرین دوست کو جو گورنمنٹ کے سیکرٹری تھے گورنر کے پاس بھیجا اس پیشکش کے ساتھ کہ ہم تمہارے صوبہ میں چار سکول کھولتے ہیں۔اس سلسلہ میں حکومت ہم سے تعاون کرے۔سکولوں کے لئے زمین دے اور استادوں کو رہنے کے لئے اجازت نامے دے۔چنانچہ گورنر صاحب بہت خوش ہوئے اور حکومت کی طرف سے تعاون کا یقین دلایا۔ہم نے ان سے دولڑکیوں اور دولڑکوں کے سکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔لڑکیوں کے سکولوں کے کھولنے کے لئے کچھ مشکل پیش آگئی تھی اس لئے ان کے کھلنے میں تو کچھ دیر ہوگئی مگر ایک دو سال ہی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں لڑکوں کے دو سکول کھولنے کی توفیق مل گئی۔ان سکولوں کی عمارتیں بھی بن گئی ہیں۔ان سکولوں کے اجراء پر ابھی تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ وہاں کی حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ تمام سکولوں کو نیشنلائز کر لیں گے اور جو خرچ ہوا ہے وہ دے دیں گے۔جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے اپنے دوستوں کو لکھ بھیجا کہ وہ وفد کی صورت میں گورنمنٹ کے پاس جائیں اور ان کو بتائیں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں، ہم یہاں کوئی پیسے کمانے آئے ہیں؟ ہم تو تمہاری خدمت کے لئے آئے تھے اگر تم سکول سنبھال سکتے ہو تو یہ دونوں سکول ہماری طرف سے تحفہ پیش ہیں۔ہم ایک دھیلہ بھی ان کا معاوضہ نہیں لیں گے اس پر وہی گورنر صاحب بڑے خوش ہوئے اور حیران بھی ہوئے۔مگر عیسائی جن کے وہاں سکول تھے وہ ہم سے ناراض ہو گئے اور غصہ میں کہنے لگے کہ ہم نے تو حکومت سے پیسے لینے تھے۔تم نے معاوضہ لینے