خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 571 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 571

خطابات ناصر جلد دوم ۵۷۱ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء وہ ہم ادا کریں اور جو ہمارا حق ہے وہ اللہ تعالیٰ ہمیں عطا کرے کہ جو اس سے ملے گا پھر ہمیں کسی اور کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں اور مل رہا ہے۔جو دور بین نگاہ رکھتے ہیں ان کو نظر آنا شروع ہو گیا ہو گا۔جو نو جوان ہیں انہیں میں کہتا ہوں جماعت احمدیہ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو چکا۔دنیا جماعت احمدیہ کی عظمت اور ان کے اخلاق کو دیکھ کے ان کے رعب کو جو ان پر پڑتا ہے۔اس سے متاثر ہونی شروع ہو گئی۔ہماری باتوں کو یہ عیسائی دنیا سمجھتی نہیں۔مانتی بھی نہیں سمجھیں گے تو مانیں گے نا لیکن ہمیں وہ سمجھتے ہیں اور ماننے لگ گئے ہیں۔کہتے ہیں عجیب قوم ہے یہ۔ڈیٹن کے میئر نے مجھے کہا کہ کس قسم کے آدمی آپ پیدا کرتے ہیں۔یہ جوافر وامریکن (Afro American) احمدی ہوئے۔جب کوئی احمدی ہو جاتا ہے اس کی کوئی اخلاقی شکایت ہمارے پاس نہیں پہنچتی۔میئر کے دفتر میں لیکن جود وسرے ہیں وہ ایک ایک آدمی کی ایک سے زائد شکایتیں روز ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔کسی کا بٹوہ چھین لیا۔کوئی اور حرکت کر لی۔صاف ستھرے جسم صاف ستھرے دماغ۔صاف ستھرے کپڑے۔اخلاق اچھے۔روحانیت میں ترقی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بڑھاتا ہی چلا جائے۔بڑی عجیب قو میں پیدا ہورہی ہیں۔تھوڑے ہیں امریکہ میں لیکن لاکھوں کی تعداد میں افریقہ میں پہلے وہ بلیک (Black) کہلاتے تھے۔آج وہ نورانی بن گئے ہیں۔ایسی انقلابی تبدیلی پیدا کر دی اللہ تعالیٰ نے وہاں کے احمدیوں کی زندگی میں اور وہ ایک نہیں دو نہیں بلکہ مجموعی لحاظ سے کئی ملین ہوں گے اور قربانی کرنے والے اللہ تعالیٰ کا ورد کرنے والے۔تسبیح اور تحمید کرنے والے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے۔اللہ اور محمد کے عاشق ہر چیز خدا کی راہ میں قربان کرنے والے اور جو دوسرا حق تھا، حقوق العباد اپنے ملک میں دوسروں کی خدمت کرنے والے۔ایک نئی قوم آ گئی ان علاقوں۔میں آدمی سمجھتا نہیں کہ یہ وہاں کے۔ں رہنے والے ہیں۔سمجھتا ہے شاید آسمانوں سے خدا نے ان کو اتارا۔ان ملکوں کے باشندوں کی بہبود کے لئے اور ان کو اٹھا کے خدا کے پیار کی رفعتوں تک پہنچانے کے لئے۔تو انقلاب عظیم بپا ہو چکا حرکت میں ہے اور اس میں Momentum پیدا ہورہا ہے حرکت جو ہے روز بروز تیز ہوتی چلی جارہی ہے۔آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں۔ساری دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔یہ خدا کا فیصلہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس فیصلہ کا بھی اعلان کیا کہ