خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 530 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 530

خطابات ناصر جلد دوم ۵۳۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہجرت ہوئی۔سارا کچھ وہاں چھوڑ آئے۔اپنی لائبریری بھی وہاں چھوڑ آئے۔چند کتابیں بڑی مشکل سے وہاں سے نکالی گئی تھیں اور کوئی ایک جگہ نہیں رہی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض ایسی کتابیں پ گئیں (آزادی سمجھی گئی نا ) کہ جو چھینی نہیں چاہئیں تھیں اور بعض ایسی کتابیں بھی دستیاب نہ رہیں جو ہر وقت موجود رہنی چاہئیں تھیں۔قرآن کریم کی تفسیر ہے۔اگر ایک دن بھی ہماری جماعت کی زندگی میں ایسا آتا ہے کہ ہمارا بچہ جوان ہو کے کہتا ہے میں نے قرآن کریم کی تفسیر پڑھنی ہے اور ہمارا دوکاندار کہتا ہے کہ یہ تو ختم ہوئی ہوئی ہے۔Out Of Print ہے تو بڑا ظلم ہو جائے گا اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا ( یہاں کے دوکانداروں سے معافی مانگ کے یہ بات بتا رہا ہوں ) کہ تفسیر صغیر چھپی دو دوسو لے لی۔جب ختم ہوگئی تو دوسرا ایڈیشن چھپنے میں بہر حال کچھ دیر گتی ہے اس عرصے میں جو نسخے ایک تیس روپے میں لیا وہ کسی نے دوسوروپے کی بچا کسی نے پانچ سوروپے میں بیچا۔میں نے سوچا کہ جو ہماری بنیادی کتابیں ہیں۔ان میں جو اخلاص ہے اور جو روحانی ضرورت ہے اس کو بلیک نہیں ہونے دوں گا۔اس واسطے آپ نے دیکھا ہوگا ( کم از کم باہر سے بہت ساروں نے ) وہ ایک عمارت بن گئی۔ظاہر سے بھی خوبصورت ہے اور جگہ بڑی ہے اندر کتابیں رکھنے کی۔ابھی تو کام شروع کرنا تھا۔تعمیر میں کچھ دیر ہوئی تھی۔تو ۱/۴ حصے میں بارہ تیرہ ہزار کتب آگئی تھیں اور میرے خیال میں خالی ہو جائے گا۔خدا کرے کہ وہ سارا خالی ہو جائے پھر پھرنی پڑیں ہمیں۔اگلے جلسے تک پچاس ساٹھ ہزار کتا بیں بکاؤ اس کے اندر ہوں گی۔ہر وہ کتاب جو آپ کے لئے ضروری ہے وہاں اس کے نسخے موجود ہوں گے۔ایک تو یہ ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر آپ وہاں سے خرید سکتے ہیں دوسرے یہ کہ کنٹرول ریٹ پہ خرید سکتے ہیں۔یعنی قیمت اس کی واجب ہوگی اور نفع کے لئے تو ہمارا ایک جھگڑا رہتا ہے ایک محکمے سے وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ساری دنیا قرآن کریم سے مالی فائدہ اٹھا رہی ہے یہ ضرور اٹھاتے ہوں گے چھپاتے ہیں۔حالانکہ اگر ایک دھیلہ نفع ملے ہمیں جو اوپر کے خرچ پورے کر جائیں تو دوسرا دھیلہ بھی لینا سمجھتے ہیں کہ بُری بات ہے۔ہمارے تو دل میں تڑپ ہے قرآن کی اشاعت کی۔ہمارے دل میں یہ تڑپ ہے کہ ہماری نسلیں جو ہیں وہ قرآنی علوم سے محروم نہ رہ جائیں۔ہمارے دل میں یہ تڑپ ہے کہ