خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 42
خطابات ناصر جلد دوم ۴۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء مجھے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام کرنا پڑتا ہے۔ایسی صورت میں جب دماغ تھک جائے اور رات کو نیند نہ آرہی ہو تو میں ایسے موقع پر اپنے گھر کہا کرتا ہوں کہ کوئی بکواس ہے تو لا ؤ ا سے پڑھوں کیونکہ اس وقت دماغ سنجیدہ کتاب پڑھنے کو تیار نہیں ہوتا۔اس طرح جب اس قسم کی کتاب کے چند صفحے پڑھتا ہوں تو نیند آ جاتی ہے۔غرض ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر چیز تمہاری خدمت کے لئے لگائی ہوئی ہے تو اس قسم کی بکواس کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہماری خدمت پر لگایا ہوا ہے۔اسی طرح فاؤنڈیشن کے تحت مقالے لکھوائے جاتے ہیں۔مقالوں کے لکھنے کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔اس بات کو میں مختصر طور پر اصولی رنگ میں بیان کروں گا۔ہمارا جو عالم طبقہ ہے یعنی Scholars of Ahmadiyyat in Islam کو مقالہ لکھنے میں دلچسپی لینی چاہئے۔اس سلسلہ میں نئے نئے مضامین لکھنے چاہئیں۔جو علماء سلسلہ کے ذاتی پسندیدہ مضامین ہیں ان کے لئے وہ مجھے لکھ دیں میں ان مضامین کو اس فہرست میں شامل کروا دوں گا جن پر مقالے لکھنے کی تحریک کی جاتی ہے۔پس اپنے اپنے ذوق کے مطابق مقالے لکھو اور پوری تحقیق کرو اور ہر تحقیق کو اس کی انتہاء تک پہنچا دو۔میں پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں، ۱۹۷ء میں مغربی افریقہ کے دورہ پر جب میں سیرالیون پہنچا تو وہاں کے گورنر جنرل نے ہماری دعوت کا اہتمام کیا۔اس دعوت میں سیرالیون کے لاٹ پادری کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔چنانچہ جب اس لاٹ پادری کا مجھ سے تعارف کروایا گیا تو چونکہ میرے اور گورنر کے درمیان صوفے پر جگہ خالی پڑی تھی اس لئے اس پادری کو ز بر دستی وہاں بٹھا دیا گیا۔اب اس لاٹ پادری صاحب نے مجھ سے اس طرح باتیں شروع کیں کہ پتہ نہیں مشرقی ممالک سے یہ کون جاہل آ گیا ہے۔اسے گویا دنیوی علوم کی کیا خبر ہے۔میں نے جب یہ تاثر لیا تو میں دعا میں مشغول ہو گیا میں نے دل میں مختصر ا مگر بڑی تضرع سے دعا کی اور کہا اے خدا ! میں توحید کا نمائندہ ہوں اور یہ تثلیث کا نمائندہ ہے اور سر اونچا کر کے بڑے فخر سے تو حید کے نمائندے سے بات کر رہا ہے۔تو مجھے اپنے فضل سے کوئی ایسی بات سکھا کہ توحید کے آگے اس کا سر جھک جائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے میرے دماغ میں دو مضمون ڈالے۔ایک Galaxies یعنی