خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 500
خطابات ناصر جلد دوم ♡ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اُس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۹،۳۰۸) چوتھا پہلو جس کی رو سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم باقی سب انبیا پر افضلیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے آپ خاتم النبین ہیں یہ ہے کہ آپ اسوۂ حسنہ ہونے کے لحاظ سے کامل ہیں یعنی ایک تو تھی قرآن کریم کی تعلیم دوسرے آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ آپ قرآن کریم پر عمل کر کے نوع انسانی کو دکھا دیں۔ہر حکم پر آپ نے عمل کر کے دکھا دیا۔کچھ پر اس طرح کہ وہ آپ کی زندگی کا حصہ بن گئے۔کچھ پر اس طرح کہ آپ کے صحابہ کی زندگی کا وہ حصہ- اور آپ نے فیصلہ کیا کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ یعنی آپ کا کلام بھی اسوہ بنا آپ کا عمل بھی اسوہ بنا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ اعلان کیا۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب : ۲۲) ہر وہ شخص جو خدا کا پیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر وہ شخص جو اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی جنتوں میں رہنا چاہتا ہے اس کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کو تلاش کرے اور پھر ان کے اوپر چلے۔(نعرے) اور ایک اور پہلو جس کی رو سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی تمام انبیا پر افضلیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے خاتم الانبیاء ہیں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر چھوٹے سے چھوٹا مقام بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران:۳۲) یعنی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آدھی باتیں تو ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کر لیتے ہیں اور اپنی زندگی کا نصف جو ہے وہ کسی اور کے سپرد کر دیتے ہیں۔کچھ ہم اسلام کی مانیں گے کچھ ہم یورپ کی تہذیب کی طرف مائل ہو جائیں گے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جب تک ہر بات میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تم خدا تعالیٰ کا انعام نہیں پاسکتے۔پہلے تو ایسا نہیں تھا ( نعرے) حضرت عیسی علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی اس تعلیم کو بدل دیا کہ جو تیرے چیڑ مارتا ہے تو اس کے بھی چھیڑ لگا اور انتقام