خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 495
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۵ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء کے کہ جو باعث پر ظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبہ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ ان کی کجھ تعلیم کتابیں ان کے حجابوں پر اور بھی صد ہا حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک پہنچاتے ہیں اور فلسفی جن کے قدموں پر آجکل بر ہمو سماج والے چلتے ہیں اور جن کے مذہب کا سارا مدار عقلی خیالات پر ہے وہ خود اپنے طریق میں ناقص ہیں اور ان کے نقصان پر یہی دلیل کافی ہے کہ ان کی معرفت باوجو دصد با طرح کی غلطیوں کی نظری وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی اور قیاسی انکلوں سے آگے نہیں بڑھتی اور ظاہر ہے کہ جس شخص کی معرفت صرف نظری طور تک محدود ہے اور وہ بھی کئی طرح کی خطا کی آلودگیوں سے ملوث۔وہ شخص بمقابلہ اس شخص کے جس کا عرفان بداہت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے اپنی علمی حالت میں بغایت درجہ پست اور منزل ہے ظاہر ہے کہ نظر اور فکر کے مرتبہ کے آگے ایک مرتبہ بداہت اور شہود کا باقی ہے یعنی جو امور نظری اور فکری طور پر معلوم ہوتے ہیں وہ ممکن ہیں کہ کسی اور ذریعہ سے بدیہی اور مشہود طور پر معلوم ہوں۔سو یہ مرتبہ ہداہت کا عند العقل ممکن الوجود ہے اور گو بر ہمو سماج والے اس مرتبہ کے وجود فی الخارج سے انکار ہی کریں پر اس بات سے انہیں انکار نہیں کہ وہ مرتبہ اگر خارج میں پایا جاوے تو بلاشبہ اعلیٰ و اکمل ہے۔اور جو نظر اور فکر میں خفایا باقی رہ جاتے ہیں ( پیچیدگیاں اور اندھیرے۔ناقل ) ان کا ظہور اور بروز اُسی مرتبہ پر موقوف ہے اور خود اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ ایک امر کا بدیہی طور پر کھل جانا نظری طور سے اعلیٰ اور اکمل ہے۔مگر نہایت بدیہی اور روشن طریق معرفت الہی کا جو اس کے وجود پر بڑی ہی مضبوط دلیل ہے یہ ہے کہ اس کے بندوں کو الہام ملتا ہے اور قبل اس کے جو حقائق اشیا کا انجام کھلے ان پر کھولا جاتا ہے اور وہ اپنے معروضات میں حضرت احدیت سے جوابات پاتے ہیں اور اُن سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں اور منظر کشفی ان کو عالم ثانی کے واقعات دکھلائے جاتے ہیں اور جزا سزا کی حقیقت پر مطلع کیا جاتا ہے اور دوسرے کئی طور کے اسرار اخروی ان پر کھولے جاتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور علم الیقین کو تم اور اکمل مرتبہ تک پہنچاتے ہیں اور نظری ہونے کے عمیق نشیب سے بداہت کے بلند مینار تک لے جاتے ہیں بالخصوص مکالمات اور مخاطبات حضرت احدیت ان