خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 494
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء تو اس نسبت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المومنین، ٹھہرے اور قرار دیئے گئے قرآن کریم میں پھر مومنین میں سے اور اوپر اٹھنے والے روحانی رفعتیں حاصل کرنے والے، ایک جماعت بن گئی جو عام مومنین سے بلند ہو کر عارفوں کے گروہ میں شامل ہوئی اور ایک عارفوں کا گروہ بن گیا۔عارفین کی نسبت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم خاتم العارفین ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اقتباس پڑھنے سے پہلے ایک وضاحت چاہئے۔آپ 'خاتم العارفین ہیں اور آپ عارف بنانے والے ہیں۔یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا کی ہے کہ جو آپ کی پیروی اور اتباع میں مومنوں کے مقامات سے بلند ہو جائے وہ عارفین کے گروہ میں خود آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجے میں شامل ہو جاتا ہے۔یعنی آپ بطور استاد کے، بطور معلم کے، بطور مربی کے ایک گروہ کی تربیت کر کے ان کی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق ان کو عام مومنین کے گروہ سے بلند کرتے ہیں شروع سے بعثت کے وقت سے قیامت تک کیونکہ روحانی زندگی خدا تعالیٰ نے آپ کو ابدا لآباد تک دی ہوئی ہے۔اور یہ عارفین کا ایک گروہ ہے تو جو عارف بنانے والا ہے۔اسی کو ہم کہیں گئے خاتم العارفین، کہ جس سے عارفوں نے اپنے کمال حاصل کئے اور جس کے نہایت منجھے ہوئے ہاتھ سے اُن کی روح کو پالش کیا گیا اور مہذب بنایاوہ بہر حال خاتم العارفین ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت خاتم العارفین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عظمہ اس شکل میں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے کس طرح عارفین کے گروہ کے اندر اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں کمال پیدا کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور منجملہ ان عطیات کے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت محمدیہ کے گروہ کو ملے۔ناقل) ایک یہ ہے کہ ان کی معرفت اور خدا شناسی بذریعہ کشوف صادقہ و علوم لدنیہ و الہامات صریحہ ومکالمات ومخاطبات حضرت احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل وا تم پہنچائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ان میں اور عالم ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفاف حجاب باقی رہ جاتا ہے جس میں سے ان کی نظر عبور کر کے واقعات اخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے۔(یہ عارفین کا گروہ ہے تربیت یافتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ناقل ) برخلاف دوسرے لوگوں