خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 493

خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۳ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء ”وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پُر زور دریا سے کمالِ تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقاً وثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔( اتمام الحجة روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۰۸) پھر آپ فرماتے ہیں کہ:۔”صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہوسکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے ایک طرف خدا سے تعلق اور دوسری طرف بنی نوع انسان سے تعلق۔یہ بریکٹ میں میں نے لکھا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے۔ناقل ) کامل حصہ لیا ہو اور کوئی شخص بحجز ان ہر دو قسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہوسکتا۔ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۷۹) تیسری نسبت جس نسبت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم ہیں وہ ہے مومنین کے ساتھ آپ کا تعلق جب خدا تعالیٰ نے کہا ایمان لاؤ تو آپ کو بھی تو فرمایا تھا نا خدا نے کہ ایمان لاؤ اور جو ماننے والے تھے ان کو بھی کہا تھا۔تو مومنوں کی ایک جماعت بن گئی۔پھر وہ بڑھی لاکھوں کروڑوں ہوگئی آپ کی بعثت کے بعد۔اس وقت بھی آپ کی طرف منسوب ہونے والے کروڑوں میں ہیں۔تو خاتم المومنین، یعنی مومنوں میں جو ایمان کا کمال ہے جو مومن ہونے کے کمالات ہیں سب سے زیادہ کمالات رکھنے والا انسان۔اس کو دوسرے لفظوں میں اول المسلمین “ بھی کہتے ہیں یعنی سب سے بلند سب سے بلندشان والا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش۔اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ المُسْلِمِينَ (الانعام: ۱۶۴) اِن دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے اس لئے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۷،۱۸۶)