خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 492
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۲ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہوئے۔تین ایسی چیزیں چاہئیں تھیں انسان کامل جس کے نتیجے میں بنے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین استعدادیں ، صلاحیتیں اور قابلیتیں عطا کیں۔ان قابلیتوں اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے جو مناسب حالات تھے وہ پیدا کئے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو فیق دی کہ ان موافق حالات میں اپنی صلاحیتوں کی نشو و نما کریں اور اس نشو ونما کو کمال تک پہنچائیں۔انسانِ کامل بن گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر انسانیت ختم ہو گئی۔خاتم انسانیت ، بن گئے تمام کمالات انسانیت آپ پر ختم ہوئے اور آپ انتہائی نقطہ ارتفاع پر جہاں تک نشو و نمائے انسانیت کا سوال ہے انتہائی نقطہ کمال پر جا پہنچے۔انسانِ کامل ہیں تو اس نسبت سے آپ خاتم انسانیت ہیں۔جہاں تک نوع انسان کا سوال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوری شان کے ساتھ اس کو اس طرح بیان کیا۔تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ وریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنادیتا ہے۔اور اس حالت میں آتشِ محبت الہی لوح قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے ارد گرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اُس کو روحِ امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر ایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے۔۔۔۔اور اس کو رائی مارائی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسانِ کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے اور دائرہ استعدادات بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے۔“ ( توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۳ ۶۴۷) پھر آپ فرماتے ہیں۔