خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 483
خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء ہمارے ملک میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو عیسائیوں کا مقابلہ کر سکے۔صرف آپ لوگ ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں اگر آپ یہ نہیں چاہتے کہ یہ سٹیسٹ عیسائی سٹیٹ بن جائے تو فوری طور پر یہاں چارنے ہائر سیکنڈری سکول جو انٹر میڈیٹ کا لجز ہمارے ہاں کہلاتے ہیں وہ کھولیں۔میں نے سفر میں ہی اس کی اجازت دے دی اور دو کے متعلق تو ابتدائی کام شروع ہو گئے ہیں وہ میرا خیال ہے شاید کھل گئے ہیں یا ایک آدھ مہینہ میں کھل جائیں گے۔باقی دو کے متعلق زمین کی ہوئی ہے۔جگہ کے انتخاب کے بعد۔بہت سارے ریڈ ٹیپ ازم (Red-tapism) ہوتے ہیں۔دفتری کام ہے لمبا ہوتا رہتا ہے لیکن وہ ملک جو احمدیت کی قدر کو پہچانتا ہی نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کیا نصرت جہاں سکیم کے ذریعہ کہ خود ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آؤ اور سکول کھولو۔پھر جب میں اس سفر میں ہی تھا تو مہینے ڈیڑھ مہینے بعد ایک اور خط مجھے ملا کہ ہمیں صرف سکولوں کی ہی ضرورت نہیں ہمارے ہاں دو ہسپتال بھی چاہئیں۔تا کہ یہ جو بد مذہب ہیں ان کو مسلمان بنایا جائے اور عیسائی سٹیٹ بننے سے اس سٹیٹ کو روکا جائے۔انسان تو ایک عاجزانہ تدبیر کرتا ہے اور کر سکتا ہے لیکن وہ جو سب قدرتوں کا مالک ہے اس کے حضور آپ دعا کریں کہ ان کے دل میں جو یہ تڑپ پیدا ہوئی ہے اور جو ان کو یہ نظر آرہا ہے کہ جماعت احمد یہ اس سٹیٹ کو عیسائی سٹیٹ نہیں بنے دے گی ، اللہ تعالی ان کی خواہش اور ان کے اندازے کے مطابق ایسا کرے کہ جماعت احمدیہ کو توفیق ملے کہ اس سارے 1/3 کو وہ اسلام میں داخل کرنے میں کامیاب ہوں۔اور وہ ہمیشہ کے لئے ایک مسلم سٹیٹ بن جائے۔بعض تفاصیل تو میں نے چھوڑ دیں اس لئے کہ پرسوں تک اینٹی بائیوٹک کھا تا رہا ہوں اپنی بیماری کی وجہ سے۔اس کی وجہ سے اتنا ضعف ہو گیا تھا آج صبح کہ میں نے مستورات میں جو تقریر ہوتی ہے اس کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی تھی بہر حال بہت ضعف محسوس کر رہا تھا اور اب بھی کر رہا ہوں لیکن اب میں نے ضعف کی بات کی ہے اور ضعف کی بات کر رہا ہوں ویسے جب میں کام کر رہا ہوتا ہوں اس وقت مجھے احساس نہیں ہوتا کہ کتنا ضعف ہے مجھے۔دوسرے میری یہ عادت ہے کہ جب میں کام کر رہا ہوں تو میں کھانا اپنا کم کر دیتا ہوں ویسے بھی میں کم خور ہوں اس لئے کہ آدمی زیادہ کھالے تو سر بھاری ہو جاتا ہے۔غنودگی آجاتی ہے۔چوکس اور بیداررہ کے چوبیس