خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 482

خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء تر پن لاکھ سے۔چار ملکوں میں سولہ ہسپتال اور سولہ سکول۔سولہ سے زیادہ ہی کام کر رہے ہیں وہاں اور اتنی برکت اتنی مقبولیت ہے وہاں کہ ساتھ سے ملکوں سے آ جاتے ہیں millionair اور آپریشن کرواتے ہیں اور فیس دیتے ہیں۔پیسہ بڑا ہے ان کے پاس کہتے ہیں دس ہزار، بیس ہزار روپیہ جو فیس لینی ہے لو ہمارا علاج کرو۔کیونکہ سارے علاقہ میں چھ ممالک ہمارے( اور اس کے علاوہ اور بہت سارے ملک ) عام شہرت ہو چکی ہے کہ ہمارے بہت سے اچھے ہسپتال ہیں۔بلڈنگوں کے لحاظ سے یورپین ڈاکٹرز ہیں دوائیاں ہیں اوزار ہیں۔سارا کچھ ہے لیکن شفا صرف جماعت احمدیہ کے ہسپتال میں ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات وزراء اپنے ہسپتال کے بجائے ہمارے چھوٹے چھوٹے ہسپتالوں میں آجاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ایک ونگ (Wing) بنا پھر دوسرا بنا اور پھر تیسرا بنا اور عمارتیں بھی شاندار بن چکی ہیں۔خدا تعالیٰ پیسے دیئے جاتا ہے اور ان ہی پر ہم خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔کیونکہ نہ ہمیں ان کی سیاست سے کوئی غرض ہے نہ ہمیں ان کی دولت سے کوئی دلچسپی ہے۔ان کا مال ہے ان پر خرچ ہورہا ہے اور یہ تو ہم نے نظارہ دیکھا خدائے قادر و توانا کی قدرتوں کو مگر دنیا اتنی اندھی کہ دنیا ہی بجھتی ہے کہ امریکہ کسی کو دولت دے سکتا ہے دنیا نہ بجھتی ہے کہ اسرائیل کسی کو دولت دے سکتا ہے دنیا یہ بجھتی ہے کہ سعودی عرب کسی کو دولت دے سکتا ہے لیکن اندھی دنیا یہ بجھتی ہے کہ اگر کوئی نہیں دے سکتا تو خدا تعالیٰ کسی کو دولت نہیں دے سکتا۔(نعرے) لیکن ہر احمدی یہ سمجھتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (ال عمران : ۳۸) اگر پیسہ دیتا ہے تو خدا ہی دیتا ہے وہ پیسہ جو برکتوں والا۔وہ پیسہ جو افا دیت والا وہ پیسہ جو اسلام کے نور کو پھیلانے والا۔وہ پیسہ جو قائم رہنے والا۔باقی ساری دولتیں عارضی ظلمتیں پھیلانے والی۔خدا سے دور لے جانے والی ہیں۔(نعرے) اتنی مقبولیت ہو چکی ہے کہ ایک امیر ملک میں یہ واقعہ ہوا۔ایک بڑے ملک کے ان ہی ملکوں میں سے۔جس میں بہت ساری سٹیٹس ہیں۔ایک سٹیٹ کے ایک بہت ذمہ دار آدمی نے مجھے اس وقت لکھا جب میں یورپ کے سفر پر روانہ ہونے والا تھا لیکن سفر میں پھر مجھے خط ملا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو صوبہ ہے سٹیسٹ ہے اس میں 1/3 مسلمان ہیں ، 1/3 عیسائی ہے۔1/3 بد مذہب ہے۔بت پرست ، عیسائی بد مذہب لوگوں میں تبلیغ کر رہے ہیں۔انہیں عیسائی بنارہے ہیں اور