خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 480
۴۸۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء خطابات ناصر جلد دوم صد سالہ جوبلی فنڈ کا ایک ثمرہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ دے دیا۔پھر جو ایک عالمی کسر صلیب کا نفرنس Deliverance of Christ from" the cross لنڈن میں ۱۹۷۸ء میں ہوئی اس کے اوپر بھی بڑا خرچ کرنا پڑا تھا۔وہ بھی صد سالہ جوبلی انگلستان نے خرچ کیا۔اس کے بہت اچھے نتائج نکلے اور سپین کی مسجد کا میں ذکر کر چکا ہوں یہ بھی صد سالہ کا ثمر ہے۔ہاں میں یہ بھی بتا دوں قرطبہ کے نواح میں مسجد کی جو بنیاد رکھی گئی۔دنیا میں متعدد مسلم ممالک نے اس مسجد کی بنیاد کی جو خبر شائع کی ہے اس میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ عالم اسلام کے لئے یہ بڑی خوشخبری ہے کہ 9 اکتوبر کو قرطبہ کے قریب ایک مسجد کی بنیا دمرزا ناصر احمد نے رکھی۔تو آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کے لئے خوشیوں اور برکتوں کا اسے موجب بنائے۔یہ جو تعلیمی پالیسی جس کا پہلے ذکر کیا میں نے ، وہ بھی صد سالہ جو بلی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس کا بار عام چندوں پر تو پڑہی نہیں سکتا اس لئے کہ وہ آپ مجلس مشاورت میں پاس کر چکے تھے تو اس واسطے میں نے اس کو منسلک کر دیا۔صد سالہ جو بلی کے ساتھ۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے تسلی بخش طریق پر صد سالہ جو بلی اس ذمہ داری کو بھی نباہ لے گی۔تعلیمی امنصوبہ کا ایک حصہ بہت ضروری ہے۔اتنا ضروری ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ پوری طرح اگر نہ سمجھے تو جماعت کو بڑا نقصان ہوگا۔وہ یہ ہے کہ میں نے اعلان کیا کہ اگلے دس سال میں اور پھر ہمیشہ کے لئے سکول کی عمر کا کوئی بچہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو میٹرک سے پہلے سکول چھوڑ دے۔یہ سن لیں پھر سنیں۔اگلے دس سال میں اور پھر ہمیشہ کے لئے سکول کی عمر کا کوئی بچہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جو میٹرک سے پہلے سکول چھوڑ دے اور ہرلڑ کی مڈل ضرور پاس کرے۔لڑکیوں کے لئے میں نے مڈل اس لئے کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بعض ایسے علاقے ہیں جہاں لڑکیوں کے لئے ہائی سکول نہیں ہیں۔اس واسطے جہاں ہائی سکول ہیں ان کے لئے تو یہی ہے کہ وہ دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کریں لیکن جہاں نہیں ہیں میں ان کے اخلاق خراب نہیں کرنا چاہتا۔وہCoeducation میں نہ جائیں مڈل تک رہیں۔قریباً ہر جگہ وہ مڈل تک جائیں اور جہاں زیادہ تعداد ہوگی احمدی بچیوں کی وہاں کوشش کریں گے کہ کو چنگ سنٹر ان کے لئے بنا دیئے