خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 473
خطابات ناصر جلد دوم ۴۷۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء میں مع نوٹس شائع کیا ہے۔نجی مشن قرآن کریم کا کویتی زبان میں ان کی جو لوکل زبان ہے شائع کر رہی ہے۔آئیوری کوسٹ مشن نے فریج زبان میں مختلف قسم کے پمفلٹس شائع کئے ہیں۔احمد یہ اکیڈمی ربوہ نے احمدیت کی امتیازی شان مصنفه مولوی دوست محمد صاحب اور جماعت احمدیہ کی ملی خدمات محمد اور احمدیہ خ مولوی دوست محمد صاحب کی لکھی ہوئی شائع کی ہیں۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے بعض نئے خیالات اپنی رحمت سے عطا کئے اُن میں سے ایک فولڈر کا تصور تھا۔منصوبہ تھا وہ یہ کہ گرمیوں میں لکھوکھا بلکہ کروڑوں سے زیادہ ایک وقت میں سیاح یوروپین ممالک میں اور امریکہ میں ساؤتھ امریکہ میں جاپان وغیرہ یعنی ساری دنیا میں سیاح پھر رہا ہوتا ہے۔ملینز (millions) کی تعداد میں تو یورپ میں پھر رہا ہوتا ہے اس وقت وہ فارغ بھی ہوتا ہے گھر سے دور بھی ہوتا ہے۔اگر چھوٹا سا دو ورقہ فولڈر دو ورقہ اگر چار نہیں اس کی ہو جائیں یعنی دو ورقوں کا چھوٹا سائز بن جاتا ہے تو وہ فولڈر بن جاتا ہے۔تو یہ مجھے خیال آیا اور وہاں میں نے فوری طور پر تو کہا وہ یورپ کو کہ تم شائع کرنے شروع کر دو۔چنانچہ وہ فولڈر شائع ہو گیا۔ٹرکش زبان میں اور البانین زبان میں اور اٹالین زبان میں اور جرمن زبان میں جو سوئٹزر لینڈ میں بولی جاتی ہے اس میں اور فرنچ سوئٹزر لینڈ میں اور جرمن ، جرمنی میں اور ڈینش زبان میں اور سویڈیش زبان میں اور نارو بکنین زبان میں اور ہسپانیہ کی زبان میں اور انگلستان کی زبان میں۔یہ بارہ ہو گئے اور گی آنا میں چھپ گیا تیرہ اور ماریشس میں چھپ گیا چودہ اور نبی میں چھپ گیا پندرہ شاید اور بھی کچھ ہوں لیکن سب سے آگے نکل گئی ماریشس کی جماعت۔انہوں نے ایک لاکھ پانچ ہزار کی تعداد میں یہ فولڈر چھاپا دو صفحے کا۔اس کا عنوان تھا۔”مہدی موعود اور مسیح موعود آگئے احمدیت کیا 9266 ہے انگریزی زبان میں اور فرنچ میں شائع کیا۔ایک دن ساری جماعت نے یوم تبلیغ منایا اور ماریشس کے قریباً ہر گھر میں فولڈر پہنچا دیا۔پچہتر ہزار فولڈر جماعت احمدیہ نے ایک دن میں تقسیم کر دیا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔انہوں نے نمونہ قائم کر دیا دوسروں کے لئے۔اصل سکیم جو ہے وہ اگلے سال کا سیاحت کا جو موسم آئے گا۔اس سے پہلے میں نے کہا ہے کہ ہر ملک کو کوئی پچپیں تمہیں ملکوں سے فولڈر چھپ کے دوسرے ملکوں میں جانے چاہئیں مثلاً جاپان کا جاپانی زبان میں جو چھپے وہ