خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 468

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء بعض جلووں نے فزکس بنادی۔بعض نے بیالوجی (Biology) بنا دی۔بعض جلووں نے انسان بنا دیا۔بعض نے انسان کی نفسیات بنادی۔سائیکالوجی بنادی۔بعض نے انسان کی اخلاقیات کی ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے۔بعض نے روحانی رفعتوں کے لئے جن راہوں کی ضرورت تھی ، وہ متعین کر دیں اور واضح اور روشن کر دیں۔کس کو آپ چھوڑ سکتے ہیں ، اس خیال سے کہ اس کو چھوڑ کے بھی بھر پور زندگی گزار سکیں گے جو خدا کو پیاری ہوگی اور خدا تعالیٰ کی جنتوں میں ہمیں لے جانے والی ہوگی۔اگر آپ جلووں کی ناشکری کریں گے جو اس دنیا میں ظاہر ہوئے جس کے متعلق قرآن کریم نے اعلان کیا تھا کہ:۔سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجانية :۱۴) تو آپ جیسا نا شکرا کوئی نہیں ہوگا اور اگر آپ دنیا اور اس کا ئنات اور سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جو ہے اس کے صحیح استعمال کو نظر انداز کر دیں گے، ہلاکت ہے آپ کے لئے ، مر جائیں گے آپ۔کیونکہ جس نے کوئی چیز پیدا کی ہے وہی بتائے گا کہ اس کا استعمال کیسے کرنا ہے۔آپ کو تو پتہ ہی نہیں کیسے استعمال کرنا ہے۔مثلا کھانا ہے۔بڑی موٹی سی مثال دے رہا ہوں آپ کہیں گے ہر آدمی کہہ سکتا ہے میں نے کھانا کھانا ہے۔میں کہتا ہوں نہیں کہ سکتا۔قرآن کریم نے کہا ہے اسراف نہیں کرنا۔میں کہتا ہوں نہیں کر سکتا کیونکہ بعض آدمی انسانوں میں سے ہیں جو میں نے خود دیکھے ہیں مثلاً بنئے دکان پر بیٹھے ہوتے ہیں کوئی ورزش نہیں ہضم کرنے کا کوئی صحیح طریق نہیں Calories burn کرنے کا کوئی سامان نہیں اور میٹھا کھا رہے ہوتے ہیں اور یوں پیٹ بڑھا ہوتا ہے کہ جہاں میں کھڑا ہوں ان کا پیٹ وہاں ( تین فٹ آگے ) تک پہنچا ہوا ہے۔ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ہزار بیماریاں۔بلڈ پر یشر دل کی تکلیفیں۔وہ مٹھائی کھاتے کھاتے مر جاتے ہیں۔یہ کوئی زندگی ہے مٹھائی کھاتے کھاتے مرنا۔زندگی تو یہ ہے کہ مرکے بھی خدا کی جنت میں پہنچ جانا ( نعرے) اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ دنیوی علوم دنیا کی خاطر سیکھو۔یا قرآن کریم کو پڑھو اس واسطے کہ تم ملا بن جاؤ۔میں یہ کہتا ہوں کہ تم دنیوی علوم اور قرآن کریم کے اسرار اور رموز اس لئے سیکھو کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال اور اس کا حسن اور اس کا احسان اور اس کی قدرتیں اور اس کی رحیمیت کے اور رحمانیت کے جو جلوے ہیں اور جس طرح وہ غفور ہو کے