خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 467 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 467

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں۔میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ آپ کے اقتصادی معیار خدا تعالیٰ بڑھاتا ہی چلا جائے اور آپ میں سے ہر ایک اپنے بچے کیا دوسروں کے بچے جو ابھی تک احمدی نہیں ہوئے ( انشاء اللہ ہو جائیں گے ) ان کو پڑھانے کی بھی آپ کو تو فیق مل جائے۔اس وقت تک دو متضا د تصور اور فلسفے علم کے متعلق دنیا میں رائج ہیں۔ایک دنیا تو یہ کہتی ہے کہ ہماری ساری ترقیات کا انحصار د نیوی علوم پر ہے اور ایک دنیا یہ کہتی ہے کہ دنیوی علوم سیکھنا کفر ہے۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ نہ دنیوی علوم سیکھنے پر تمہاری ساری ترقیات کا انحصار اور نہ اس کا سیکھنا کفر۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ئنات کو پیدا کیا اور جتنے بھی مروجہ علوم ہیں اور وہ علوم بھی جو دس بیس سال کے بعد پھر مروجہ کی فہرست میں آجائیں گے ان میں جو اصول بھی انسان کو نظر آئے بنیادی طور پر وہ بنیادی اصول جن پر ان علوم کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک قانون ہے۔تو قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ کائنات کے گوشے گوشے میں اور قرآن کریم کی آیات میں تلاش کر و خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اور قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اس دنیا کے ذرے ذرے میں اور قرآن کریم کے لفظ لفظ میں میری صفات کے جلوے تلاش کرو اور جو بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ ہے ، وہ کفر نہیں ہو سکتا اور صرف ایک حصہ لے کے اور دوسرے حصہ کو چھوڑ دینا تقویٰ نہیں ہوسکتا یہ ناشکری ہے۔یعنی جو حصہ چھوڑ دیا وہ ناشکری ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے مادی دنیا میں ظاہر ہوئے ، ان اصولوں پر جن علوم کی عمارتیں بنیں ، ان میں تو مجھے دلچسپی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے ہماری زندگیوں کی خوشحالی کے لئے قرآن کریم کی آیات اور اس کے الفاظ میں نظر آتے ہیں اس میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں میں تو ایسے شخص کو مفلوج سمجھوں گا کہ جس کے وجود کا آدھا دھڑ ( نچلا ) تو زندہ ہے لیکن آدھا دھر (اوپر کا ) مردہ ہو چکا ہے۔اس لئے میں تو جماعت کو یہ کہوں گا دنیا کا ہر علم اس لئے سیکھنا ضرور ی ہے کہ دنیا کے ہر علم کی بنیاد خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں پر ہے اور قرآن کریم کے اسرار اور رموز کی تلاش اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی آیات میں بھی تمہیں خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے نظر آ ئیں گے۔یہ کائنات ہے کیا ؟ سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو اس کا ئنات سے تعلق رکھتی ہیں ان کے جلووں کا مجموعہ ہے یہ کائنات۔بعض جلو وں نے کیمسٹری بنا دی۔