خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 466
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء پانچویں جماعت سے پکڑے۔پانچویں پھر آٹھویں۔وظیفے کا امتحان دیا جاتا ہے۔پھر دسویں۔پھر بارہویں پھر چودھویں۔پھر سولہویں اور جماعت کے بچوں کو سنبھالے اس کے لئے ایک حد تک ریکارڈ منصوبہ کے مطابق بن گیا ہے لیکن پورا ریکارڈ نہیں بنا۔کیونکہ کئی مختلف شکلوں میں اسے میں محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔رجسٹروں میں وہ ہو گیا ایک حد تک۔ایک حصہ اب بھی طلباء کا ایسا ہے کہ جن کی اطلاع ہمارے پاس نہیں اور وہ رجسٹروں پر ان کے نام نہیں چڑھائے گئے لیکن پنتالیس پچاس ہزار طالب علم کا نام تو آ گیا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ایک لاکھ طالب علم ہے ہمارا۔ایک لاکھ اس کا مطلب ہے کہ قریباً پچاس فیصدی ایسے بچے ہیں جن کے ناموں کی اطلاع ہمیں نہیں ملی۔یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ ہمیں ان کی اطلاع دیں۔پھر کارڈ سسٹم پر ان کو لے کے آتا ہے۔پھر کمپیوٹر پر ان کو لے کے آنا ہے۔کمپیوٹر کا یہ فائدہ ہے کہ بڑی جلدی وقت کا ضیاع نہ کرتے ہوئے ان کے کوائف سامنے آسکتے ہیں یہ انعامات دینے کا جو حصہ ہے لطیفہ یہ ہوا کہ ہمارے ایک ناظر صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب نے کیا انعام کا سلسلہ شروع کیا ہے ایک تولہ سونا ایک تمغے میں۔کوئی اڑھائی ہزار کا خرچ آجاتا ہے اگر سو بچے آجائیں فرسٹ سیکنڈ تو اڑھائی لاکھ روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔مجھے جب کسی نے بتایا میں نے کہا جو خدا ہمیں ایک سو ذہین بچہ دے گا جو یو نیورسٹی اور بورڈ میں فرسٹ آئے گا وہ اڑھائی لاکھ روپیہ بھی دے دے گا ان پر خرچ کرنے کے لئے۔اس واسطے مجھے فکر نہیں ہے اس کی نیز ہم نے ان کی تعلیم پر خرچ کرنا ہے غریب خاندان میں ذہین بچہ پیدا ہو جاتا ہے صرف اس وجہ سے اس کے ماں باپ غریب ہیں اس کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا لیکن جائز حق ہونا چاہئے۔بعض ماں باپ نا مجھی اور عدم علم کی وجہ سے لکھ دیتے ہیں کہ ہمارا بچہ ساتو میں آٹھویں میں پڑھتا ہے اس کا چار سو روپیہ وظیفہ مقرر کر دیں اور عام طور پر میرا خیال ہے اوّل تو فیس ہی کوئی نہیں اور کتابوں کا زیادہ سے زیادہ خرچ بھی تمیں چالیس سے زیادہ نہیں ہے۔تو اس مطالبہ پر شاید کسی کو غصہ آتا ہو مجھے تو نہیں آتا۔میں مسکرایا کرتا ہوں کہ بہر حال ایک جوش ہے کہ اس کو آگے نکلنا چاہئے باقی ہم سمجھا دیتے ہیں کہ تمہارے اندازے غلط۔جو اس کا حق ہے وہ اس کو ضرور مل جائے گا اور بچے کی ذہانت کو ماں باپ کے عیش کے لئے تو نہیں استعمال کیا جا سکتا کہ بچے کی وجہ سے اتنے پیسے مل جائیں کہ ہم اپنا معیار کچھ زیادہ بڑا کر لیں۔