خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 460
خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۰ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اور حسن نہیں پہنچا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور حسن کو پہنچانا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ہم کمزور ہیں۔ہم غریب ہیں۔ہم بے کس ہیں۔ہم دنیا کے دھتکارے ہوئے ہیں۔لیکن خدا کے دھتکارے ہوئے ہم نہیں۔ہم غریب ہیں۔ہمارے پاس دولت نہیں لیکن ہم نے اس کا دامن پکڑا ہے جو ہر دو جہان کا مالک ہے اور سارے خزانوں کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے۔( نعرے ) اور جس نے قرآن عظیم میں یہ اعلان کیا:۔اِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (ال عمران: ۳۸) اور اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں اور ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ اس زمانہ میں وہ ہمارے ساتھ یہی سلوک کر رہا ہے کہ بغیر حساب کے وہ دینے والا ہے۔ہم کمزور ہیں کوئی طاقت ہم میں نہیں۔اچھی طرح سمجھ لو اور یا درکھو کہ کوئی طاقت ہم میں نہیں لیکن سب طاقتوں کا جو سر چشمہ ہے اس کے قدموں میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔( نعرے) قرآن کریم نے فرمایا ہے:۔وَلِكُلٍ وَجْهَهُ هُوَ مُوَلِيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة : ۱۴۹) پچھلی صدی میں میں نے تمہیں اس آیت کی روشنی میں دو ماٹو دیئے تھے۔حمد اور عزم۔قیامت تک وہ قائم رہیں گے۔اللہ تعالیٰ کے اتنے احسان ہیں ہم پر کہ پندرھویں صدی تو کیا اگر قیامت تک کی ساری صدیاں ان احسانات پر ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں اور اس کی حمد کے گیت گاتے رہیں جو چودھویں صدی میں ہم پر ہوئے تب بھی ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔لیکن نعماء اور فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں کی یہ بارش بند تو نہیں ہوئی۔اس میں تو شدت پیدا ہو رہی ہے ہر روز۔حمد ہم نے کرتے چلے جانا ہے۔چاہے اس کو اس کی انتہا ء تک نہ پہنچا سکیں کمزور انسان ہیں لیکن جس حد تک ممکن ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اس کی حمد میں مشغول رہیں اور جو کچھ ہم نے دیکھا اور جو کچھ ہم نے پایا چودھویں صدی میں اس نے ہمیں یہ وضاحت سے سمجھا دیا کہ خدا تعالیٰ ہماری کوششوں میں برکت ڈالتا ہے اگر ہماری کوششیں اس کی رضا کے لئے ہوں اور ہماری کوششوں کے ساتھ عاجزانہ دعائیں شامل ہوں اس لئے ہم نے تھک کے بیٹھ نہیں جانا بلکہ پورے عزم کے ساتھ ، پورے حوصلہ کے ساتھ اور پوری جرات کے ساتھ اس پندرھویں صدی میں