خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 454
خطابات ناصر جلد دوم ۴۵۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء نشو ونما دے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نسلوں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کی چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لئے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے اور وہ اس سلسلہ کے کامل متبعین پر رحم بھی کرے گا اور انہیں قبولیت اور نصرت دی جائے گی اس رب جلیل نے یہی چاہا ہے وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے ہر ایک طاقت اور قدرت اسی کو ہے جو وعدے دیئے گئے ہیں وہ بڑے عظیم ہیں یہ عظیم وعدے ہم پر جو ذمے واریاں ڈالتے ہیں بہت ہی عظیم ہیں یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے اخلاص سے ، ہم اپنے ایثار سے ، ہم انسانوں سے اپنی ہمدردی سے ہم بے لوث خدمت کے ساتھ خدا کی مخلوق کی ہم ہر ایک کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کے نتیجہ میں ہم ہر ایک کو سکھ پہنچانے کی کوشش کی وجہ سے اپنے رب کریم کی نگاہ میں وہ مقام حاصل کریں چھوٹا یا بڑا جس کا ذکر اس اقتباس میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے اکثر کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں میں نسلاً بعد نسل اس کے مطابق نیک اور پاک اور خدا کی خدائی میں امن کو قائم کرنے والے اور لوگوں کی بھلائی چاہنے والے اور نیکی کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور اللہ تعالیٰ اس دنیا میں امن کو قائم کرے، اس وقت دنیا اگر سوچے بلکہ پریشان کن حالات میں سے زندگی گزار رہی ہے اور کہا نہیں جاسکتا کہ کب اور کس وقت کوئی عالمگیر ہلاکت کا سامنا نہ کرنا پڑے انسان کو۔دعائیں کریں کہ انسان اپنی خاطر ، اپنی نسلوں کی خاطر تو بہ کرے اور خدائے واحد و یگانہ کی طرف رجوع کرے اور خدا کی باتوں کو مانے اور اپنے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نور کی بھیک مانگیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حصہ لے کر دنیا میں نور پھیلانے والے بنیں اور ہر ایک دوسرے کا بھائی بن کر زندگی گزارنے والا ہو دشمن بن کر نہیں۔ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہو بدخواہ نہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہر جہت سے، ہر پہلو سے ہر ایک کو امن کے قیام میں کچھ کرنے کی طاقت عطا کرے اور اس کی طرف ان کی راہنمائی کرے اور اللہ تعالیٰ جو مختلف قوموں کے درمیان اختلافات اور انتشار اور شکر رنجیاں ہیں انہیں دور کر دے اور بین الاقوامی سطح پر امن کا سورج طلوع ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں خواہ وہ دنیا کے