خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 455
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کسی حصہ میں ہی کیوں نہ ہوں اپنی برکتوں سے نوازے اپنے فرشتوں سے ان کی نصرت کرے اور مد دکو آئے اور ان پر موسلا دھار بارش کی طرح ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور ان کی قلم اور زبان میں برکت ڈالے اور ان کے دلوں کو ہر عیب اور ناپاکی سے پاک کر دے اور انسان کی محبت سے بھر دے اور خدا کی مخلوق کا خیال کرنے والے وہ ہوں صرف انسان پر ہی نہیں خدا کی دوسری مخلوق پر بھی وہ رحم کرنے والے اور اس کی تکلیف کو دور کرنے والے بن جائیں اور خدا کرے کہ دولت کی کمی کی وجہ سے اگر کسی جگہ انسان دکھ اٹھا رہا ہے تو دولت کی مساوی تقسیم اس دکھ کو دور کرنے کا باعث بن جائے اور دنیا میں کوئی پیٹ رات کو بھوکا نہ سوئے اور کوئی پیٹ زیادہ کھانے کی وجہ سے رات کو پیٹ درد میں مبتلا نہ رہے اللہ تعالیٰ ہر طرف سے ہم پر رحم کرے، ہمیں بخشے ، ہماری غلطیوں کو معاف کرے ہماری کوتاہیوں کو نظر انداز کرے قیامت کے دن ان لوگوں میں ہمیں اٹھائے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نیچے اٹھائے جائیں گے۔آمین۔آؤ اب مل کر دعا کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ ناصر ہو دوست احباب واپس تشریف لے جائیں گے کچھ آج کچھ کل کچھ پرسوں۔جہاں بھی ہوں آپ ، راہ میں ہوں، گھروں میں ہوں پھر سفر میں کسی نکلیں اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اللہ تعالیٰ ہر خیر کے سامان آپ کے لئے پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ہر دکھ سے آپ کو محفوظ رکھے آپ کی زندگیوں میں برکت ڈالے۔عمریں بڑھائے نیتیں جو ہیں ان میں اور زیادہ اخلاص پیدا کرے اور خدا توفیق دے ہم سب کو کہ آئندہ سال انشاء اللہ اسی کی توفیق سے ہم پھر جمع ہوں اس کی حمد کے ترانے گانے کے لئے ، اس کے حضور عاجزانہ جھک کر دعائیں مانگنے کے لئے ، اپنے جسم کے پانی کا کچھ حصہ آنسوؤں کی شکل میں اس کے آستانہ پر چھڑکاؤ کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے ، اس کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے۔میں اس کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے ، دلوں میں محمد کے نام کی محبت پیدا کرنے کے لئے۔آؤ دعا کرلیں۔(از آڈیو کیسٹ)