خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 452
خطابات ناصر جلد دوم ۴۵۲ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء جب طبعی قوتوں کو موقع محل اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے وہ اخلاق فاضلہ بن جاتے ہیں۔پھر پاکیزگی ہے، پاکیزگی کے متعلق دو باتیں اصولی بیان کیں ایک انسان کو یہ کہا فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ (النجم :۳۳) اپنے آپ کو پاک نہ کہا کرو گنہگار ہو جاؤ گے غرور پیدا ہو جائے گا شیطان کی گود میں چلے جاؤ گے ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو کبھی جوش میں آکے نہ کہو میں بڑا پاک، میں بڑا ولی میں بڑا یہ میں بڑا وہ ہر شخص خدا کے حضور ایک عاجز وجود ہے اور جس چیز کو اسلام پاکیزگی کہتا ہے وہ یہ لپ سٹک اور سرخی کلوں پر لگانے کا نام نہیں ہے ظاہری آنکھ نے جسے دیکھنا ہے اس کا دل سے تعلق ہے قرآن نے کہا فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ (النجم :۳۳) دیکھ کبھی اپنے آپ کو پاک نہ کہنا هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں ہے۔جب یہ کہا کہ خدا کو ہی علم ہے کہ کون پاک اور کون نہیں اور کون مطہر اور کون نہیں کون متقی اور کون نہیں تو پھر انسان کو تو تبھی پتا لگے گا ، جب خدا بتائے گا کسی استاد سے اس کی سند نہیں لے سکتے قرآن کہتا ہے نہیں نہیں هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی اللہ کو پتا ہے یہ بھی استاد کو نہیں پتا کسی مجسٹریٹ سے لے کے جا کے کوئی پرانا کاغذ جو ہے اس کی تصدیق اور ثبوت مہیا نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے سامنے، گواہوں کے ساتھ ، اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں پاک اور متقی ہوگا خدا تعالیٰ خود اس کے متقی اور پاک ہونے پر گواہی دے گا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بتایا ہے کہ جو میری نگاہ میں پاک اور مطہر ہوں میں ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک کرتا ہوں۔ایک جگہ فرمایا إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ( حم السجدة : ۳۱) جنہوں نے کہا کہ رب حقیقی ہمارا اللہ تعالیٰ ہے ہم ہر قسم کی ربوبیت اور نشو و نما کے لئے اس کے محتاج ہیں اسی سے مانگیں گے اسی سے لیں گے وہ دے گا تو ہماری نشو و نما ہوگی ورنہ نہیں ہوگی ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم السجدة : ۳۱) پھر وہ اپنے اس عہد پر سختی سے قائم رہتے ہیں استقامت سے قائم رہتے ہیں تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدۃ:۳۱) اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے انہیں تسلی دیتا ہے خوف کے اوقات میں ، ان کو تسلی دیتا ہے جس وقت کوئی کوتاہی اور غفلت ہو جائے اور وہ بے چین ہو کر خدا سے تو بہ اور استغفار کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان کی