خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 31

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور طاقت رکھی گئی ہے۔یہ کوئی معمولی دعوی نہیں ہے بلکہ اس کی ابدی صداقت کے طور پر یہ بھی فرما دیا: - لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) یعنی مطہروں کا ایک سلسلہ پیدا ہوتا رہے گا اور خدا تعالیٰ جو معلم حقیقی ہے وہی ان کا اُستاد ہوگا۔وہ اُن کو نئے سے نئے اسرار قرآنی بتائے گا جن کے ذریعہ وہ دُنیا کے مسائل کو حل کرواتا چلا جائے گا۔اس حقیقت کی رو سے ہوسکتا ہے کسی نے اشارہ پہلے بھی ایسا کہا ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں تو ہر مسئلے کا بیج ہمیں نظر آتا ہے۔میں یورپ میں جاتا رہا ہوں اور بڑے کر کمیونسٹوں سے باتیں کرتا رہا ہوں۔میں اُن سے کہتا تھا تم اسلام کا کیا مقابلہ کر سکتے ہو۔تمہیں تو پتہ ہی نہیں کہ انسان کا حق کیا ہے۔مگر تم دعویٰ یہ کرتے ہو کہ ہم انسان کو اس کے حقوق دیں گے۔پس احباب کتابیں پڑھیں اس رنگ میں کہ خود اپنی اور اپنی نسلوں کی اور اپنے بھائیوں کی تربیت کر سکیں۔جو لوگ باہر جاتے ہیں وہ دنیا کو بتاسکیں کہ تمہارے مسائل کوئی دوسرا از محل نہیں کرسکتا۔صرف اسلام حل کر سکتا ہے کیونکہ اسلام ازم نہیں ہے بلکہ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا ایک عظیم مذہب اور دستور حیات ہے۔ہماری دوسری تحریک وقفِ عارضی کی تحریک ہے۔اس وقت تک جماعت نے اس میں بڑے اخلاص سے حصہ لیا ہے۔دو دو واقفین عارضی کا گروپ باہر جاتا ہے۔استثنائی صورتوں کے علاوہ عام طور پر کم از کم دو ہفتوں کے لئے یہ وقف ہوتا ہے جب دوست با ہر تبلیغ کے لئے جاتے ہیں تو مرکز کے ساتھ خصوصی رابطہ قائم ہوتا ہے اور وہ مرکز سے خط و کتابت بھی کرتے ہیں۔جب وہ وقف عارضی پر جاتے ہیں تو انہیں اپنے ماحول سے علیحدہ رہنے کا موقع ملتا ہے دعائیں کرنے کی توفیق ملتی ہے وہ خود بہتر نمونہ بننے کی کوشش کرتے ہیں کچھ دیکھتے ہیں کچھ سمجھتے ہیں۔کچھ سمجھاتے ہیں اور کچھ دکھاتے ہیں اس طرح اُن کو نئے نئے تجر بے حاصل ہوتے ہیں لیکن دُنیا میں اس وقت ایک جماعت احمدیہ ہی ہے جس میں استقلال پایا جاتا ہے اور اگر ذرا بھی کہیں کمی ہو تو جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوستوں کی کمزوری کی طرف توجہ دلا کر اس کو دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض کمزوریاں دوست خود ہی دُور کر لیتے ہیں۔خدا نے کہا ہے