خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 387
خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۷ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء بلند کرنے کے لئے ہم یہاں آتے ہیں اور جمع ہوتے ہیں۔اس لئے جس غرض کے لئے ہم آتے ہیں اس غرض کو پورا کرنے کے لئے جو باتیں ضروری ہیں ان کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔ایک ان میں سے یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس جلسہ گاہ میں جو تقاریر ہوتی ہیں اور بعض دوسری جگہ بھی ہوتی ہیں ان میں ہم حاضر رہیں۔جو تقاریر ہوں ان کو غور سے سنیں۔جو تقاریر ہم غور سے سنیں ان سے اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔سننے کے بعد جو ہم سمجھیں کہ یہ ہماری ذمہ واری ہے عزم کر کے یہاں سے اٹھیں کہ اے خدا! ہم ذلیل سہی دنیا کی نگاہ میں ، دھتکارے ہوئے سہی ، ہماری جیبیں خالی سہی ، سب کچھ اپنی جگہ درست لیکن ہیں تیرے عاشق بندے اور جو کچھ ہے تیرے حضور پیش کر دیں گے۔پھر خدا کہتا ہے اگر تم خود میرے حضور عاجزانہ پیش کش کرنے کے لئے دوفٹ بلند ہو گے اس گندی زمین سے اور زمین کی طرف جھکو گے نہیں اور دنیا تمہارے دل میں حکومت نہیں کرے گی بلکہ دین کی حاکمیت ہوگی تمہارے دلوں میں۔تو اگر تم دوفٹ اٹھو گے تو میرے فرشتے وہاں سے اٹھا کر تمہیں ساتویں آسمان پر لے جائیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ بشارت دی ہے۔خدا تعالیٰ کے حکم سے کہ امت محمدیہ کے وہ افراد جو عجز کی راہوں کو اختیار کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان کو ساتویں آسمان تک اٹھا کر لے جائے گا۔یہ جو میں نے بات کی ہے اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔میں اپنے محبوب اپنے محمد کی بات دہرا رہا ہوں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔تو آپ کا کام یہ نہیں۔آپ کر ہی نہیں سکتے۔آپ میں سے کوئی خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو۔اتنا مال خدا کے حضور پیش نہیں کر سکتا کہ اس انقلاب عظیم کے لئے جس دولت کی ضرورت ہے اس دولت کا سامان ہو جائے۔خدا تعالیٰ علام الغیوب تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا۔تمہارے دلوں کو دیکھ رہا ہے۔وہ تمہاری طاقت پر نگاہ نہیں رکھتا۔تمہارے دماغ کی۔تمہارے ذہنوں کی جو کیفیت ہے اس کے ساتھ پیار او محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جوعشق ہے اس میں جو شدت ہے، وہ اس کی نگاہ میں ہے۔لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا (الحج : ٣٨) تمہاری قربانیاں جو ہیں ان کا خون اور ان کا گوشت خدا تک نہیں پہنچتا۔جو تقویٰ کی لہریں تمہارے دلوں میں موجزن ہیں وہ خدا تعالیٰ تک پہنچتی اور خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو