خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 383
خطابات ناصر جلد دوم ٣٨٣ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق احمدی نہ بستے ہوں افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۹ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پرسوں شام میں اچانک بیمار ہو گیا۔مغرب سے پہلے سارا جسم برف کی طرح ٹھنڈا ہو گیا۔شدید سر درد، پیٹ میں درد اور دل کی دھڑکن اس کے ساتھ تیز ہوگئی پہلے بھی کبھی ہوتی ہے۔معدہ کی سوزش کی وجہ سے اور سخت ضعف کی کیفیت۔اپنی ہمت کے مطابق مقابلہ کیا بیماری کا۔ڈاکٹروں نے اپنے علم کے مطابق دوائیں دیں۔اس وقت پہلے سے بہت بہتر ہوں لیکن ابھی پوری طرح آرام نہیں آیا اور اس وقت بھی میں ضعف محسوس کر رہا ہوں اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہے۔لیکن خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے میں یہاں آ گیا ہوں اسی پر ہمارا بھروسہ ہے اور اسی کے آگے عاجزانہ جھک کر ہم دعائیں کرتے ہیں۔آپ بھی دعا کریں میں بھی دعائیں کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے بھی صحت دے۔آپ کو بھی صحت سے رکھے۔ہمارا یہ جلسہ سالانہ ۸۷ واں جلسہ سالانہ ہے۔اس سے قبل ۸۶ ( چھیاسی ) جلسہ سالانہ گزرچکے ہیں جماعت احمدیہ کی زندگی پر۔ایک آدھ ناغے بھی ہوئے بیچ میں لیکن بہر حال جو جلسوں کی تعداد ہے وہ ۸۷ ویں ہے۔ہمارے جلسوں نے چند درجن چہروں کو بھی دیکھا ابتداء میں۔پھر سینکڑوں کے ساتھ ہمارا جلسہ متعارف ہوا۔حاضری سینکڑوں سے نہیں بڑھتی تھی۔پھر دو ایک ہزار کے ساتھ تعارف ہوا ہمارے جلسہ کا۔پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ، اس کے فضل نے ہمارے نفوس میں برکت ڈالی اور جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے یہ برکت اپنی وسعتوں کے لحاظ سے ساری دنیا کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں خدا تعالیٰ کی خالص تو حید پر قائم ہونے والے