خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 384
خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۴ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق احمدی نہ بستے ہوں۔سب تو نہیں آتے ، نہ آ سکتے ہیں اس جلسہ پر۔نمائندے یہاں آتے ہیں۔تعداد بڑھتی چلی گئی۔ہمارا جلسہ خوشیوں سے معمور ہوتا گیا۔برکتوں سے، فضلوں سے بھرتا چلا گیا۔پچھلے سال جلسہ کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ چالیس ہزار ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔اس سال دیکھیں ہمارے گنتی کرنے والے ہمیں کیا تعداد بتاتے ہیں۔سب سے زیادہ تعداد آخری دن کی آخری تقریر جو میری ہے اس میں اور پھر دعا میں ہوتی ہے۔ہم امید رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ آج تک سلوک رہا ہے ہمارا قدم آگے ہی بڑھے گا، پیچھے نہیں ہٹے گا۔آج صبح یہ اطلاع ملی کہ بعض جگہ پر بعض حالات کی بناء پر ہمارے بہت سے احمدی دوست جو جلسہ سالانہ کے لئے گھروں سے نکلے تھے وہ بعض لاری کے اڈوں کے اوپر یاسٹیشنوں کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی وجہ سے ان کو سواری نہیں مل سکی اور نہیں پہنچے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی اس گھبراہٹ کو اور اس تشویش کو دور کرے اور وہ جلد ہی یہاں پہنچ جائیں اور اپنی نیت اور اخلاص کے مطابق اور اپنے جذبہ کے مطابق اپنے رب سے اجر کو حاصل کریں۔کیونکہ یہ جلسہ جو ہے۔یہ اجتماع ہمارا، آج کی دنیا کے سوائے ایک اجتماع کے بالکل ہی نرالا اجتماع ہے۔اجتماع، اجتماع میں فرق ہے۔لوگ خوشیوں پر میلے کرتے ہیں۔لوگ پرانے بزرگوں کے عرس کرتے ہیں۔لوگ پرانے سکالرز ، علماء کے دن مناتے ہیں۔اپنی نیتوں کے لحاظ سے وہ بھی خدا سے اجر پائیں گے۔خلوص نیت کا سوال ہے۔اس جلسہ کی بنیاد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ ہے کہ دوست ایک جگہ اپنے مرکز میں اکٹھے ہوں اور خدا کی باتیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنیں۔ان کے ایمانوں میں تازگی پیدا ہو۔ان کے تعلق باللہ ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت اور پیار کا تعلق ہے۔اس میں اور بھی زیادتی پیدا ہو۔وہ جو تزکیہ نفس کے لئے جہاد کرتا ہے ہر انسان ، اس میں آگے بڑھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو اور بھی قبول کرے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو وہ پہلے سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔ساری دینی اغراض ہیں۔دنیا کی ذرہ بھر ملونی ہمارے اس جلسہ میں نہیں ہے۔آپ نے فرمایا:۔ایک فقرہ میں اس وقت سناؤں گا آپ کو۔آپ نے فرمایا:۔ہم اس لئے جمع ہوتے ہیں یہاں کہ جماعت کا زہد و تقویٰ اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور