خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 378

خطابات ناصر جلد دوم ۳۷۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کہ میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں۔محق صلیب کے لئے اور ساتھ یہ کہا کہ آنے والا میرا روحانی فرزند صلیب کو توڑنے والا ہوگا اور مادی طاقت کے ساتھ نہیں بلکہ نشانوں کے ساتھ اور نشانات میں پیار کرنا بے لوث خدمت بھی ایک نشان ہے اور دلائل۔دلائل کا تو ایک سمندر ہے جو ہمارے ہاتھ میں مہدی موعود نے عطا کر دیا ہے۔تو یہ باتیں آپ کے آپ کے جو بچے ہیں اور آپ جو جوان ہیں اور آپ جو mature دماغ کے بلوغت کو پہنچے ہوئے ہیں پوری۔ان کو ریفریشر کورس کے طور پر۔یہ چیزیں سامنے آنی چاہئیں۔باقی یہ درست ہے کہ جس وقت کسی t ی event کسی واقعہ ہونے والے واقعہ کی اہمیت قوم میں قوم کے ذہنوں میں بہت بلند ہو تو اس واقعہ کے متعلق غلط باتیں بھی بیچ میں شامل کر دیتے ہیں لوگ۔یہ ایک انسانی کمزوری ہے لیکن اس میں اور ہر چیز کو چھوڑ دو بہت سارے محک ہیں اور ایسے طریقے ہیں جن سے صحیح اور غلط میں فرق کیا جاسکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت جہاں آجائے اور جس حد تک خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہو اس حد تک تو ماننا ہی پڑے گا کہ بات صحیح ہے۔بعض لوگوں نے پہلے یہ کہا کہ ہم نہیں مانتے کیونکہ چاند اور سورج کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادت کے مطابق گرہن نہیں لگا اور جب گرہن لگ گیا تو ماننے کی بجائے کہ دیا کہ یہ حدیث جھوٹی ہے کہ یہ حدیث جھوٹی تھی تو چاند نے جھوٹ کو سچ کیسے ثابت کر دیا اور سورج کیسی گواہی دینے کے لئے آ گیا اس کی سچائی پر۔تو اس واسطے میں یہ کوئی تدبیر کروں گا انشاء اللہ تعالی۔آپ دعا کریں کہ مجھے اس کی توفیق ملے اور آپ دعا کریں کہ آپ کو اس کی توفیق ملے کہ آپ سمجھیں اور یہ بوجھ ہی کوئی نہیں یعنی جو کام ہے ہمارے ذمہ بڑا اہم ، بڑا مشکل بہت کوشش کا مطالبہ کرتا ہے۔بڑی قربانی اور ایثار چاہتا ہے لیکن ان ساری قربانیوں اور ایثار کے بعد جو ہمیں مل رہا ہے اس کے تو ہزارویں حصے پر ہر دو جہان قربان ہوتے ہیں۔خدا کا پیار مل گیا اور کیا چاہئے کسی کو۔تو بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں Pin Pricks انگریزی کا محاورہ ہے بڑا اچھا۔میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں۔ہمیں جو تکلیف پہنچتی ہے ایسا ہی ہے جیسے چلتے ہوئے کانٹا کچھ گیا۔تو کانٹے تو پچھا ہی کرتے ہیں۔بچو! تمہیں زیادہ چھتے ہیں کیونکہ تم ننگے پاؤں پھرنے کے عادی ہوا کثر۔بڑوں نے تو جوتیاں پہن لیں اور کانٹوں کے چھنے سے محفوظ ہو گئے۔تو تمہیں زیادہ تجربہ اور احساس ہے۔کیا فرق پڑتا ہے۔اسی وقت کانٹا نکلوا کر چھلانگیں مارنے لگ جاتے