خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 379

خطابات ناصر جلد دوم ۳۷۹ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء ہو۔چھلانگیں مارو اس وقت اگر کانٹا چھے تمہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں بھی۔کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس طرف جا رہے ہو ادھر سے اس قسم کی نورانی شعاعیں ، اس قسم کا حسن ، اس قسم کی پیاری آوازیں آرہی ہیں ہمیں ، کہ ہمیں تو مست کر دیا ہے ان وعدوں نے جو ہمیں دیئے گئے ہیں کہ اگر تم یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں کرو گے خدا تعالی تمہیں یہ عطا کر دے گا۔کر رہا ہے۔ہماری زندگیاں زندہ گواہ ہیں اس بات پر کہ جو وعدے دیئے گئے تھے مہدی موعود کو جماعت کے متعلق، وہ پورے ہو رہے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کے منصوبے کو نا کام کر سکے۔خدا کرے کہ ہمیں اس کی توفیق ملے ہم بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھنے والے ہوں اور ہمار- دل میں ایک آگ ہمیشہ بھڑکتی رہے کہ ہم بنی نوع انسان کی خدمت کر کے اور ہر ممکن طریقے۔ان کے دل جیت کے ان کے لئے ، بنی نوع انسان کے لئے جو خدا تعالیٰ سے دور چلے گئے ہیں بھلائی کے اور جنتوں کے اور خدا کے پیار کو حاصل کرنے کے سامان پیدا کر دیں۔اب دعا کے بعد اس جلسہ کا اختتام اس سال کے لئے ہو جائے گا۔بڑی برکتوں والا یہ جلسہ بھی آیا۔بہت تعداد لے کر آیا۔بہت سے نئی جگہوں سے غیر ممالک سے آئے لوگ اور سارا سال ہی۔میں نے کل بتا یا کچھ حصہ جلدی میں سے گزرنا پڑا مجھے۔بڑی خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوئیں اتنی کثرت سے۔مجھے تو بڑا فکر یہ تھا کہ ربوہ کے یہ معجز نما۔معجزے ظاہر کرنے والے مکان آپ کو کیسے سمیٹیں گے لیکن وہ معجزہ انہوں نے پھر بھی ظاہر کیا اور کھانے کی بھی جہاں تک مجھے علم ہے کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوئی کہ جس کو آپ محسوس کرتے۔آپ کی طاقت سے بالا ہوتی۔چھوٹی موٹی تکلیفیں تو ہوتی رہتی ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں جلسہ کے موقع پر میں نے دیکھا کہ رات کے گیارہ بجے تک کھانا تقسیم ہو رہا تھا۔تو کسی نے کوئی پرواہ نہیں کی۔اس وقت ابھی آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے نا۔روایات قائم ہو جاتی ہیں۔ایک وہ دن اور میں، یہاں افسر جلسہ سالانہ اور ساڑھے آٹھ بجے ایک جماعت نے حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کر دی کہ ساڑھے آٹھ بج گئے ہیں اور ابھی تک ہمیں کھانا نہیں ملا۔تو خیر وہ میری جواب طلبی ہوئی۔وہ میں نے جواب دیا اس کا لیکن میری طبیعت میں اتنی بشاشت پیدا ہوئی کہ ایک وہ وقت تھا کہ گیارہ بجے کھانا نہیں ملتا تھا تو تب بھی شکایت نہیں جاتی تھی۔اب اتنا انتظام اچھا ہو گیا ہے کہ ساڑھے آٹھ بجے تو کہا ساڑھے آٹھ