خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 368
خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء انکار کیا۔اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہدی موعود کے آنے کی مہدی موعود کی بشارت کی جو خبر تھی اس کا انکار کرنے والا ہے وہ۔اور بیج الکرامہ میں ہے کہ محمد بن علی الشوکانی فرماتے ہیں:۔"إن الاحاديث الواردة فى المهدي المنتظر متواترة ( حجج الكرامة صفحه ۴ ۴۳ در مطبع شاہجہانی) کہ وہ احادیث جو مہدی موعود کے آنے کی خبر دیتی ہیں وہ تواتر کا حکم رکھتی ہیں یعنی بڑی کثرت سے ہیں۔ہر فرقہ ، ہر کتاب، ہر عالم جو ہے جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے نا تفصیل سے ایک حد تک اور پھر مختصراً باقی ساری۔تیرہ سو سال کے زمانے میں سے ہم گزرے ہیں ابھی تو یہ اس کو کہتے ہیں تو اتر تو وہ کہتے ہیں شوکانی صاحب که ان الاحاديث الواردة في المهدى المنتظر متواترة كم مہدی کی خبر دینے والی جو احادیث ہیں وہ متواتر کا حکم رکھتی ہیں اور متواتر اصطلاح ہے انکی۔اور شیخ نظام الدین شاشی نے اصول الشاشی میں لکھا ہے۔المتواترة يوجب العلم القطعية (اصول الشاشی صفحہ ہے کہ جو متواتر حدیث آئی ہے وہ قطعی صحیح اور قطعی علم ہمیں دیتی ہے۔ويكون رَدُّه كفراً اور اس کا رد کرنا کفر تک انسان کو لے جاتا ہے۔اور اسی طرح علی بن محمد الجرجانی نے اپنی کتاب التعریفات صفحہ ۶۶ میں لکھا ہے۔يكون جاحدالخبر المتواتر كافراًبالاتفاق“ کہ جو شخص متواتر خبر کا انکار کرتا ہے وہ بالا تفاق کافر بن جاتا ہے۔اس طرح امام حجر سیمی نے اپنی کتاب الفتاوی الحدیثیہ کے صفحہ ۳۷ پر لکھا ہے کہ اسکافی ایک ہیں ان کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔مَنْ كَذَّبَ بِالْمَهْدِى فَقَدْ كَفَرَ ، الفتاوى الحديثية میر محمد کتب خانه آرام 66 باغ کراچی صفحه ۳۷) جس شخص نے مہدی کے آنے کی تکذیب کی اور کہا کہ کسی مہدی نے نہیں آنا ” فقد کفر “ اور حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت شیعوں کی ایک کتاب میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ظہور مہدی کا انکار کیا وہ یقیناً محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کا کافر