خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 369
خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۹ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء بنا۔جیسا کہ عربی میں میں نے آپ کو ابھی پڑھ کر بتایا تھا یہ ایک کتاب بڑی مشہور ہے کتاب المهدی اس کے صفحہ 19 پر ہے۔مینا بیع المودہ کے صفحہ ۴۴۰ پر یہ عبارت ہے جسے کتاب المہدی کے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے۔روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے بہت سی باتیں مہدی کے متعلق بیان کیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! تمہیں مہدی کے ظہور کی خوشخبری ہو کیونکہ خدا کا وعدہ برحق ثابت ہوگا۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یہ برحق ثابت ہوگا۔قضاء وقدر کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اسی طرح کتاب المہدی میں سے ایک اقتباس لیا ہے۔Reference ایک بزرگ گزرے ہیں محقق ان کی کتاب۔کتاب بیان کا کہ انہوں نے کنجی نے اپنی کتاب ، یہ بڑے ثقہ ہیں ان کی میں نے تحقیق کی آپ کے پاس بیان کرنے سے پہلے انہوں نے کتاب بیان میں لکھا ہے۔مہدی علیہ السلام کے متعلق بہت سی باتیں انہوں نے لکھی ہیں اور اس کے بعد ایک نتیجہ نکالا ہے اور وہ یہ ہے۔وو پس نبابریں جمیع اهل اسلام که شیعه و سنّی باشند دربارء اثبات وجود مهدی اجماع و اتفاق دارند " کہ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ تمام اہل اسلام شیعہ ہوں یاسنی ، وجود مہدی کے متعلق وہ متفق ہیں۔ان کا اجماع ہے کہ مہدی کا وجود ہے اور وہ آئے گا یعنی مہدی آنے والا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ چند حوالے جو ہم میں اصل تو کہانی سنا رہا ہوں نا آپ کو اپنے بچپنے کی اور جوانی کے ایک حصہ کی کہ یہ ساری باتیں جو ہیں یہ ہمارے کانوں میں تو پڑ رہی تھیں جب ہم بچے تھے تو چونکہ آپ کو اس طرح سنائی نہیں جاتی رہیں حالات بدل گئے اس لئے آج میں اس وقت یہ باتیں آپ کو بتا رہا ہوں۔ایک سوال یہ ہے کہ احادیث میں نزول عیسی کا بھی ذکر ہے اور نزول مہدی کا بھی ذکر ہے اس واسطے بعض ہمارے محققین کے سوچ میں یہ خلط پیدا ہوا کہ آیا یہ دو علیحدہ علیحدہ وجود ہیں یا ایک ہی وجود کے دو پہلو ہیں یہ نسبت دو مختلف کاموں کے جو مہدی کے سپر د کئے جائیں گے۔کاموں کی وجہ سے ایک کام کی نسبت سے یا ایک مقام کی نسبت سے اسے عیسی کہا گیا اور دوسرے کی نسبت سے اسے مہدی کہا گیا۔