خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 366
خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۶ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کے یہ بانی عیسائیوں کے ساتھ یہ مناظرے کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزاء دے۔تو ان سب متکلمین نے ویسے تو بہت سی اور کتب میں سے بھی ملا تھا لیکن یہ تین کافی سمجھی گئیں۔پھر جو ہمارے مختلف اوقات میں بہت زیادہ تجدید دین کا کام کرنے والے مشہور مسجد دین ہیں ان میں سے یہاں جو میں نے لئے ہیں حوالے وہ صرف پانچ کے لئے ہیں اور انہوں نے بڑے کھل کے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر صوفیاء ہیں حسن بصری جیسے، حکیم ترمذی جیسے، یحیی بن عقب جیسے ، حضرت نعمت اللہ ولی جیسے ، جن کا مشہور قصیدہ ہے۔فرید الدین عطار شہید جیسے، شرف الدین عمر بن الفارض جیسے محی الدین ابن عربی جیسے، صدر الدین قونوی جیسے شمس تبریزی جیسے ، حافظ شیرازی جیسے ، راجو قتال جیسے اور بسطامی جیسے اور عبدالرحمن جامی جیسے اور شافی جیسے۔یہ ہیں صوفیاء کا انتخاب میں نے کیا۔میں نے بتایا کہ میں نے تو منتخب آپ کے سامنے یہ رکھنے کے لئے چنے تھے ان میں کے میں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا ہے۔بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔ان کے اندر ان میں سے کچھ کے متعلق میں ابھی بتاؤں گا۔صوفیاء یہ اپنا ایک ہے نا گر وہ اچھا ان میں سے صوفیاء میں سے ایک حوالہ میں پڑھ دوں یہ عبدالرزاق قاسانی ہیں یہ کہتے ہیں کہ۔: المهدى الذى يجيءُ في آخر الزمان فانه يكون في الاحكام الشريعة تابعاًلمحمدصلی الله عليه وسلم“۔که آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے مہدی جو ہیں وہ احکام شریعت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے۔وفى المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والأولياء تابعين له اور جو تفسیر احکام قرآنی ہے معارف جو قرآن کریم سے حاصل کئے جاسکتے ہیں ان معارف اور ان علوم اور ان حقائق قرآنی جو خدا تعالیٰ جن کا علم ان کو دے گا اس لحاظ سے وہ تمام انبیاء اور اولیاء سے بالا ہیں اور سارے انبیاء اور اولیاء ان کے تابع ہیں یعنی شریعت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور اس شریعت محمدیہ قرآن عظیم کے علوم سیکھ کر جو معارف وہ حاصل کریں گے اور جو علوم ان کو عطا کئے جائیں گے اور جن صداقتوں پر ان کو کھڑا کیا جائے گا اس لحاظ سے وہ تمام انبیاء