خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 365

اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۵ انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر علی بن محمد دارقطنی مؤلف سُنن دار قطنی ۳۸۵ هجری میں وفات پائی انہوں نے ، مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر محمد بن عبد اللہ الحاکم مرتب مستدرک للحاکم ۴۰۵ ہجری میں وفات پائی انہوں نے ، مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر بیہقی نے جن کی یہ سنن بیہقی ہے اور ۴۵۸ ہجری میں انہوں نے وفات پائی، انہوں نے مہدی کا ذکر کیا آنے کا۔پھر حدیث کی کتابیں لکھنے والوں میں نہا یہ ابن اثیر ہے اس میں ذکر ہے۔پھر تبریزی کی کتاب مشکوۃ میں۔بڑی مشہور کتاب ہے عام پڑھی جانے والی کتاب ہے مشکوۃ ، اس میں مہدی کے آنے کا ذکر کیا اور یہ نہا یہ ابن اثیر جو ہیں یہ ۶۰۶ ہجری میں انہوں نے وفات پائی اور مشکوۃ لکھنے والے جو ہیں، ۷۳۷ ہجری میں انہوں نے وفات پائی۔پھر ابن حجر الھیثمی جنہوں نے الفتاوی الحدیثیہ لکھی ہے ۹۰۹ ہجری میں انہوں نے وفات پائی۔انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر ابن الربیع الشیبانی الشافعی جنہوں نے ۹۴۴ ہجری میں وفات پائی انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر علامہ علاؤالدین علی المنتقی ۹۷۵ ہجری میں وفات پائی کنز العمال بہت مشہور کتاب ہے، انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر حضرت مولانا الامام الشیخ محمد طاہر گجراتی ۹۸۶ ہجری انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر امام القاری ۱۰۱۴ ہجری میں جنہوں نے وفات پائی۔امام اہل سنت ہیں شارح مشکوۃ شریف ہیں انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر علامہ عبدالرؤف مناوی ۱۰۳۱ ہجری میں وفات پائی۔کنوز الحقائق کے مرتب ہیں، انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر علامہ سندھی مشہور ہیں ۱۳۸ ہجری میں وفات پائی۔انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔پھر علامہ محمد بن احمد سفارینی ۱۸۸ ہجری میں انہوں نے وفات پائی۔حنبلی فقہ سے ان کا تعلق ہے اور مشہور محدث ہیں انہوں نے مہدی کے آنے کا ذکر کیا۔تو یہ اکیس حدیث کی کتابیں ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ امت محمدیہ میں مہدی آئے گا۔پھر فقہ کی جو کتابیں ہیں ان میں سے، اب میں مختصر کروں گا اس کے بعد تفصیل میں نے آپ کو بتادی کافی۔پانچ کتب کا میں نے انتخاب کیا ہے پانچوں میں مہدی کے آنے کا ذکر ہے۔پھر علم متکلمین جو ہیں کی الدین، ابن تیمیہ ، تفتازانی اور آخر میں محمد قاسم نانوتوی ۱۲۹۷ ہجری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے قریباً دس سال پہلے ان کی وفات ہو گئی اور مدرسہ دیو بند کلام