خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 360
خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۰ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْجِبَالُ سُئِرَت (التکویر : ۴) سے سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں، ان کا اقبال چمک اٹھنا اور ان کا صاحب اقتدار ہو جانا اور دنیا کے حاکم بن جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (التكوير : ٢) سے مترشح ہو رہا ہے اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک دوسرے کا ملنا سہل ہو جانا جیسا کے بدیہی طور پر وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التكوير: ۸) سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک آسانی سے پہنچ جانا خطوط کا جیسا کہ آیت: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوير : ۱۱) سے ظاہر ہو رہا ہے اور جو چھوٹے چھوٹے تقویٰ کے چشمے تھے ان کا مکدر ہو جانا اس زمانہ میں جیسا کہ وَإِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ (التكوير : ۳) سے صاف معلوم ہوتا ہے اور بدعتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (الانشقاق :۲) سے معلوم ہوتا ہے۔یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلاب عظیم آ گیا ہے اور جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ( القمر :۲) سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو اور گزر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہے۔بہر حال قرآن کریم نے جیسا کے میں نے بتایا بہت سی ایسی پیشگوئیاں زبر دست کی ہیں جن کا تعلق اس آخری زمانہ سے ہے جس میں مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ ظاہر ہوگا۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کام یہ بتایا گیا تھا کہ وہ یہ حدیث میں ہے آگے۔میں ایک ٹکڑا یہاں لے آیا ہوں کہ وہ بیج اور دلائل کے ساتھ دلائل قاطعہ کے ساتھ اور آیات اور معجزات کے ذریعہ سے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے گا اور اس طرح پر وہ لوگوں کے دل خدا اور اس کے رسول کے لئے جیتے گا۔اب جس شخص کا ساری دنیا سے تعلق ہو۔جس کی بعثت کا مقصد یہ ہو کہ وہ اسلام کا نور مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیلائے اور دنیا کا چکر لگاتا ہو وہ مغرب کی طرف جائے۔پیدا ہو گئے وہ ہندوستان، میں اس واسطے میں اسی کو مرکزی نقطہ بنا کر آگے بات کرتا ہوں تو مشرق اوسط میں سے پھلانگتا ہوا پھر سمندروں سے پار ہوتا ہوا پھر وہ یورپ