خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 359

خطابات ناصر جلد دوم ۳۵۹ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معانی قرآن تفسیر قرآن سکھائی۔انہوں نے ایسی تفسیریں کی ہیں کہ جو صدیوں پہلے واقعات سے کی ہیں وہ درست ثابت ہوئیں۔تو قرآن کریم میں میرے خیال میں بیسیوں ایسی آیات ہیں جن میں آنے والے مہدی معہود کے زمانے کا ذکر ہے اور زمانہ سے ان کا تعلق ہے اور پیشنگوئیاں ایسی ہیں جن میں سے بہتوں سے مہدی کا تعلق ہے کہ اس نے ان سے فائدہ اٹھانا تھا۔اس وقت میں قرآن کریم کی بھی اختصار کے ساتھ ساری باتیں نہیں بیان کر سکتا کیونکہ وہ خود ایک بڑا لمبا مضمون بن جاتا ہے۔بڑے اختصار کے ساتھ میں بعض باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اور وہ یہ ان کو ہمارے محاورہ میں وہ آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں۔وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ پہلوں کو خدا تعالیٰ نے علم سکھایا ورنہ وہ اگر ایسی کوئی تفسیر کر دیتے جو عملاً انسانی تاریخ میں وہ واقعہ ہی نہ ہوتا تو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ قرآن کریم میں غلط بات آئی ہے۔ہمیں یہ کہنا پڑتا کہ جو مفسر نے کہا ہے اس نے غلطی کھائی اور قرآن کریم کی اس آیت کا یہ منشانہیں تھا جو منشا سمجھا گیا اور بیان کیا گیا جیسا کہ خسوف و کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القيمة :١٠) میں کی گئی ہے۔قرآن کریم کی آیت ہے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ اب میں بعد میں آیات قرآنی پڑھوں گا اردو کے فقروں کے بعد اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا۔جس کی تصریح وَإِذَا الْعِشَارُ عُلَتْ ( التكوير : ۵) سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت: وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ (الانفطار :۴) سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَتَرَتْ (الانفطار :٣) : سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور وباء پڑنا اور امساک باراں ہونا یہ تین قرب قیامت کی علامتیں ہیں جن کا تعلق زمانہ مہدی معہود سے ہے اور قحط پڑنا اور و با پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت: إذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ (الانفطار :۲) سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت: إِذَا الشَّمْسُ مُورث (التکویر ۲) سے واضح ہے اور پہاڑوں