خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 26
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک نہ ایک دن ضرور جیت کے رہیں گے۔لیکن یہ تو ایک نتیجہ ہے اور یہ تو ایک منزل مقصود ہے وہاں تک پہنچنے کے لئے ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیں لوگوں کے غضب اور غصے اور نفرت کی آگ کے شعلوں کو اپنی شفقت اور پیار کے پانی کے ساتھ بجھانا ہوگا۔میرے پیارے بھائیو اور بہنو! یا درکھو کہ ہم دُنیا کو مارنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔احمدی دُنیا کی ہلاکت کے لئے پیدا نہیں ہوئے بلکہ دنیا کو زندگی دینے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آواز پر لبیک کہو کیونکہ وہ تمہیں زندگی دینے کے لئے بلا رہا ہے۔ہم اس کے خادم ہیں۔ہم نوع انسانی کے دلوں کو پیارا اور محبت سے جیتیں گے اور اُن کے مردہ جسموں کو روحانی اور اخلاقی طور پر از سر نو حیات بخشیں گے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے چراغ سے نور لے کر ان کے دلوں کو منور کریں گے۔اس مقصد کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔لیکن آج ہمارا یہ مقابلہ تین بڑی طاقتوں کے ساتھ ہے۔یہ بڑا سخت مقابلہ ہے اس کے برعکس ہمارے ذرائع بہت تھوڑے ہیں سوائے ایک ذریعہ کے جو اتنا بڑا ذریعہ ہے کہ اس سے بڑھ کر مادی ذرائع ہو ہی نہیں سکتے۔وہ دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا ہے۔پس خدا کی راہ میں ہم جو کچھ کرتے ہیں ، وہ تو حقیر کوششیں ہیں لیکن وہ اپنے فضل سے ہمیں دعائیں کرنے کی توفیق دیتا ہے ہم تو بڑے عاجز بندے ہیں ہماری دعاؤں میں بھی کمی رہ جاتی ہے لیکن وہ اپنے فضل سے ہماری حقیر کوششوں کو نوازتا اور ہماری کمزور دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے۔اور ہماری توقع سے بڑھ کر نتائج نکالتا ہے۔پس اس پس منظر میں ہم نے دُنیا کے دل خدائے واحد و یگانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے ہیں مگر پیار اور شفقت کے ساتھ ، خدمت اور غم خواری کے ساتھ۔ہم نے دنیا کے دکھوں کو دور کر کے دکھی انسانیت کو سکھ پہنچانا ہے۔دُنیا کے دکھوں کو حقیقی طور پر سوائے احمدیت کے اور کوئی دُور نہیں کر سکتا اور احمدیت اس لئے یہ دکھ دُور کر سکتی ہے کہ اس کے ہاتھ میں شریعت محمدیہ کی شمع ہے اور یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتی ہے۔