خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 349
خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء یہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ہم نے یہ کیا ہے کہ جو لیٹر ہیڈ ہیں یہ خط لکھنے کے ہمارے پیڈ ان کے او پر مختلف فقرے جو ہیں وہ ہمارے دفا تر لکھیں اور انہوں نے لکھ دیئے ہیں قرآن کریم کی خوبیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اس سے بھرا ہوا ہے اور یہ اس لئے لکھے ہوئے ہیں کہ ہماری حالت یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شعر میں جو بیان ہوئی ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے ( در مشین صفحه ۸۴) ہاں وقف بعد از ریٹائرمنٹ۔ایک سو سات دوستوں نے وقف کئے تھے چون ریٹائر ہو چکے ہیں اور میرے علم یا یاد داشت کہنا چاہئے ، میری یادداشت کے مطابق ابھی تک صرف ایک کو میں نے کام پہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے باقیوں کے متعلق سوچیں گے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا سرمایہ شروع میں تھا اس سے جو آمد ہے وہ تھوڑی سی آمد ہے تھوڑا سا سرمایہ ہے یہ سارا سرمایہ اس وقت ان کے پاس ستائیس لاکھ کا تھا جو بٹا ہوا ہے پاکستان اور غیر ممالک میں اس کی جو آمد ہے اس سے انہوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کا دفتر بنایا لائبریری کی جدید طرز کی عمارت جو بننے کے ساتھ ہی چھوٹی بھی ہو گئی تھی وہ انہوں نے بنائی ، کافی روپیہ خرچ کر کے اور گیسٹ ہاؤس۔اور وظائف دیتے ہیں اور بعض اور مقالے لکھوا کے انعامی نام دیتے ہیں انعامی مقالے لکھوا کر اپنے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبات عیدین دو جلدوں میں اور خطبات نکاح زیر اشاعت ہیں وہ دو جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں اور حضرت فضل عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح زیر تالیف ہے بعض دوست ان کے ذریعہ سے بھی وظائف دے دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔مجلس نصرت جہاں کا ضمناً میں نے ذکر کر دیا تھا اتنا کافی ہے سترہ کے قریب ہمارے ہاسپیٹل اور سولہ نئے ہائی سیکنڈری سکول وہ جو چھوٹا کالج ہے وہ ہیں اور جو ہمارے ہسپتال کما رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اس کی عطا شفا کے رنگ میں جو نازل ہوئی ہے وہاں اس کے نتیجہ میں اس سے ملک ملک کو بڑا فائدہ پہنچ رہا ہے ان کی آمد ا نہی پہ خرچ کی جارہی ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس منصو بہ کو اور بھی با برکت کرے اس کی جو وصولی تھی وہ ختم ہو چکی ہے اور جو پہلے سرمایہ تھا اس کا