خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 346

خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء کرنے کے لئے تیار نہیں ہاں وہ شمس صاحب کہتے ہیں کہ وہ انہوں نے کہا تھا کہ پہلے ہم فون پر بات کریں گے پھر آپ آئیں بات کرنے کے لئے ابھی تک فون پہ بات نہیں کی انہوں نے۔یہ ابھی پرسوں ہی آئے ہیں تئیس کو چلے تھے وہاں سے۔لیکن دنیا میں تو ایک حرکت ہوگئی نا شروع صرف جاپان میں اس موضوع پر کچھ ہمارے حق میں کچھ عیسائیوں نے یا ان کے پادریوں نے اپنے عقیدے کے حق میں چونسٹھ خطوط یا نوٹ اور مضامین جاپان کے چار انگریزی اخباروں میں چھپ چکے ہیں اس کے بعد چونسٹھ۔اور نجی میں اسی طرح بہت سارے مضمون سولہ کے قریب اور ابھی یہ سلسلہ جاپان میں بھی جاری ہے اور نجی میں بھی جاری ہے مضمون کوئی چھوٹے خط کوئی لمبے مضمون یہ وہ چھپ چکا ہے تو یہ ہر جگہ اب غانا کے اخبار نہیں شامل ویسٹ افریقہ کوئی اخبار نہیں شامل جو تعداد میں نے بتائی ہے نائیجیریا میں چار صفحے کا سپلیمنٹ اس مضمون کے اوپر آ گیا۔اسی طرح دوسرے جو ملک تھے ان کے اندر یہ آ گیا۔تو اصل چیز یہ ہے کہ یہ جو تھا نا وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (القلم : ١٠) قرآن تو بڑی عظیم کتاب ہے ہر حالات کے متعلق ہمیں ہدایت دے گیا ہے کہ یہ مداہنت کرنا چاہتے ہیں اور اس لئے کہ تم بھی مداہنت کرو اور حکم یہ ہے کہ تم نے مداہنت نہیں کرنی ہم تو ہر اس شخص سے جو خدا تعالی کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعلق ہم سے بات کرنا چاہے ہر وقت دن ہو یا رات، مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب اس سے بات کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس صداقت پر قائم کیا ہے کہ خدا ایک ہے اور محمد اس کا رسول۔اور ہمیں بتایا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ ہم اس صداقت پر قائم ہیں بلکہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب دنیا کی اکثریت بھی اس صداقت پر قائم ہو چکی ہو گی کہ خدا ایک اور محمد اس کے رسول ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلے بغیر خدا تعالیٰ سے کوئی برکت حاصل نہیں کی جاسکتی اس کا کوئی فیض حاصل نہیں کیا جاسکتا کوئی ایسا نہیں جو فضل اور رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پہ کھڑا ہو کر آپ کو نظر انداز کر کے آپ کو چھوڑ کے آپ سے بے پرواہ ہو کر خدا سے حاصل کر سکے نہیں ایسا نہیں ہو سکتا تو اب ایک زندگی اس مسئلے میں پیدا ہو گئی نا۔وہ جو یہ تھا کہ بس ہم نے اپنے ا پیٹ بھر لئے ، ہم بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ اور تم بھوکے پیٹ کے ساتھ اپنی اپنی جگہ کے اوپر