خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 344
خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء ہے دنیا نے دیا ہوا ہے محافظ عیسائیت، وہاں یہ کیا ہو گیا اور کئیوں نے کہا اور لکھا پادریوں کو کہ کیا ہوگا ہے تمہیں اتنا بڑا واقعہ ہو گیا ہے اور تم آرام سے خاموش بیٹھے ہو اور یہ جو چودہ کروڑ میں کہہ رہا ہوں اس میں جو امریکہ کے اخبار ہیں وہ شامل نہیں۔اس میں جو ساؤتھ امریکہ کے اخبار ہیں وہ شامل نہیں۔میں لندن میں ہی تھا تو ہمیں اطلاع ملی کہ ساؤتھ امریکہ کے اخبار نے قریباً ایک صفحہ اسی مضمون پر کہ حضرت مسیح کی موت صلیب پر نہیں ہوئی لکھا ایک صفحے کے قریب کم و بیش ایک صفحہ۔اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تصویر بھی اس نے شائع کی اور یہ جتنے اب سکالر ہیں انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی دفعہ اس حقیقت کو دنیا پر آشکارہ کیا کہ ریح صلیب پر نہیں مرے تھے اور دلائل دے کر اور موثر طریق پر اور Convince کر کے اس چیز کو آپ نے کیا وہاں اسی کا نفرنس میں ایک انگریز نے چھوٹا سا مضمون پڑھا تھا ویسے تو وہ کتاب لکھ رہا ہے اس میں اس نے کہا ہے کہ عیسائی دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے اس لئے وہ ملعون نہیں تھے بلکہ وہ نیک بندے تھے خدا کے تو ہم تو ان کے زیرا حسان ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا کیا۔- انہوں نے پتہ نہیں خدائی تصرف میں اسے کہتا ہوں ، کانفرنس سے چند دن پہلے ایک میٹنگ کی ان کی ایک کونسل آف برٹش چرچز ہے وہ اکٹھے ہو گئے ہیں مختلف فرقے ، انہوں نے سر جوڑ کے ایک پریس میں خبر دی کہ یہ اس طرح یہ کا نفرنس کر رہے ہیں اور بعض عیسائی جو ہیں وہ غصے میں بھی ہیں ،اس خبر میں یہ کچھ اس قسم کے تھے الفاظ ، تو ان کو غصہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایک وقت میں ہم بھی اسلام کے خلاف بہت کھل کے اعتراض کرتے رہے ہیں اسی قسم کے اور ہم تیار ہیں کہ احمدی اور کوئی چاہے تو ہم سے تبادلہ خیال کر لے مذاکرہ کر لے تو ہمیں اور کیا چاہئے تھا۔انہوں نے پریس میں یہ خبر بھیجی اور اس کی نقل ایک جو پریس ریلیز تھی ہمیں بھی بھجوادی لندن مشن کو براہِ راست۔تو یہ پریس کانفرنس سے پہلے کا واقعہ تھا میں نے پریس کا نفرنس میں یہ انتظام کیا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جو ان کی ریلیز ہے وہ پڑھ کے سنا دیں گے اور جو جواب ہے وہ میں پڑھ کے سنادوں گا تو میں نے ، ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا مشورے کے بعد کہ زیادہ تیز نہیں