خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 343 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 343

خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء colonization کر دی۔جزائر میں گئے۔آسٹریلیا میں گئے ایوریجینز کو کچھ کو مارا کچھ کو زیر کیا۔افریقہ کے ممالک کو گئے اور حال یہ کہ میں جب گیا ہوں وہاں دورے پر پہلا ملک نائیجیریا تھا اور میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ میں نے ان کے ہیڈ آف دی سٹیسٹ کو بھی جب ملا تو میں نے کہا دیکھو میرا تاثر یہ ہے کہ you had all you are deprived of all تمہیں خدا نے سب کچھ دیا تھا لیکن تم سے سب کچھ چھین لیا گیا۔تو اس نے فوری مجھے یہ جواب دیا How true you are how true you are کہ کتنی سچی بات کہہ رہے ہو اور حالانکہ وہ خود عیسائی تھا۔انہوں نے وہاں جو عیسائیت پھیلائی ہے وہ اس طرح کہ ایک مولوی صاحب کا جو اسلامی کتب کو جاننے والا ظاہری علوم سے واقف اس کو ، اس کے بیٹے نے کہا میں نے انگریز کی مدرسے میں جانا ہے انہوں نے وہاں داخل کرا دیا ذہین بچہ ہے پڑھے گا آگے ترقی کرے گا۔پہلے دن اس کا نام محمد ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہوا برکت کے لئے۔رجسٹر پہ پہلے دن جو نام لکھا اس کا نام لکھا محمد کی بجائے ایم اور انگریزی نام اپنا عیسائی دے دیا پیٹر تو رجسٹر پر ایم پیٹر ہو گیا اور کچھ پتہ نہیں اس کے باپ کو بھی اور اس کے رشتہ داروں کو بھی کہ کیا ظلم ہو گیا اور جس وقت وہ سکول سے نکلا وہ عیسائی۔اس طرح انہوں نے عیسائی بنایا یعنی میں علی وجہ البصیرت بات کر رہا ہوں ساری دنیا کو اس طرح سمیٹ کے اور پھر یہ کہنا کہ آؤ اب گلے ملتے ہیں اور تم بھی آرام سے رہو اور ہم بھی آرام سے رہتے ہیں اور نہ تم عیسائیوں میں سے مسلمان بناؤ نہ ہم اب آئندہ مسلمانوں میں سے عیسائی بنا ئیں گے اور یہ بھی دنیا میں ہر جگہ نہیں جہاں کسی اور کا زور پڑ جائے وہاں آگے سے یہ کہہ دیتے ہیں اور مداہنت کر لو۔اس کا نفرنس نے ان کو اس طرح جھنجھوڑ کے رکھا ہے۔اور اتنی کثرت سے اشاعت ہوئی اور اتنا عظیم اس کا اثر ہوا ہے دنیا پر۔اس وقت میر۔پاس وقت کم رہ گیا ہے میں جو ساری باتیں جو میں کہنا چاہتا تھا وہ تو نہیں کہہ سکوں گا کہ آدمی حیران ہوتا ہے ایک تو وہاں ہم نے ایک فرم سے کیا ہوا تھا۔پراپیگنڈہ کی خبریں وغیرہ دینی تھیں اس نے ہمیں۔اس کا اندازہ تھا کہ جو ریڈیو پر خبریں آئیں اور جو اخباروں میں چھپیں چودہ کروڑ انسان کے کانوں تک یہ خبر پہنچی اور کچھ تفصیل کے ساتھ کچھ اختصار کے ساتھ کہ لندن میں جو عیسائیت کا مرکز ہے اور جس کی ملکہ کو یہ بادشاہ کو اگر بادشاہ ہو Defender of Faith کا خطاب عیسائی