خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 342

خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء اچھا جو بہت نمایاں شخصیتوں کو بھی جماعت کے مبلغ اور دوسرے احمدی لٹریچر دیتے ہیں نا تو پین کی ملکہ کو شہنشاہ جاپان کے چھوٹے بھائی ہر ایمپیریل ہائی نس شہزادہ ہریکا ہیتو خانو بہ کو تلفظ مجھے نہیں پتہ کیا ہے، اور کینیڈا کے وزیر اعظم کو۔پہلوں کو لٹریچر قرآن کریم اس میں ضرور ہوگا یا شاید نہ ہولیکن کینیڈا کے وزیر اعظم کو قرآن مجید پیش کیا گیا عراق کے بعض بڑے آدمیوں کو بھی یہ دیا گیا۔اس سال جو سب سے نمایاں چیز ہمارے سامنے آئی وہ لندن کا نفرنس ہے لندن کا نفرنس کا مضمون تھا Deliverance of Christ from the cross مسیح کا صلیبی موت سے نجات پا جانا۔تو یعنی یہ کہ قرآن کریم نے ہمارے عقیدے اور ہمارے نور فراست کے مطابق ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہود اپنے اس نہایت خطر ناک منصوبہ میں ناکام ہو گئے کہ خدا کے ایک رسول کو صلیب پر لٹکا کر ماردیں اور دنیا میں مشہور کر دیں کہ وہ ملعون تھا اور خدا تعالیٰ کی لعنت تھی نعوذ باللہ اس پر۔ہمارے نزدیک نہ مسیح ملعون تھے نہ خدا تعالیٰ کی ان پر لعنت تھی وہ خدا کے بزرگ انبیاء میں سے ایک بزرگ نبی تھے اور خدا کے پیارے تھے اور خدا سے پیار کرنے والے تھے اور اپنا سب کچھ اس پر قربان کرنے والے تھے اور ایک سو بیس سال پہلے ابتدائی چند سالوں کے علاوہ انہوں نے خدا کی مخلوق کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلانے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے تیار کرنے پر اسی سال کا وقفہ گزارا۔نہیں نہیں ہاں ٹھیک کوئی نوے سال، ستاسی سال انہوں نے پاؤں پاؤں چل کے، گھوڑا بھی ایک دفعہ ان کو دیا گیا انہوں نے کہا میں گھوڑے کو سنبھالوں گا یا خدا کی مخلوق کو سنبھالوں گا۔اسی طرح جاؤں گا میں ہر روز۔نوجوان نے پھر نعرہ لگایا اس پر حضور نے فرمایا: دیکھو میں نے کہا ہے نہ بولو۔پھر کیوں بول رہے ہو تم۔ایک دفعہ کہنا کافی ہونا چاہئے احمدی کو۔حکمتیں سمجھانا میرا کام ہے اور ساری حکمتیں بتائی بھی نہیں جاتیں۔(ایک رضا کار اس نوجوان کی طرف جارہے تھے حضور نے فرمایا نہیں بس ٹھیک ہے آ جاؤ۔ٹھیک ہے اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں) یہ اصل بنیادی فائدہ اس کا نفرنس کا یہ ہوا کہ عیسائی دنیا آرام سے مگن ہو کے سوئی پڑکی تھی۔اس لئے کہ صدیوں خدا تعالیٰ کی حکمت نے ان کو عروج دیا اور دولت دی اور پتہ نہیں۔خدائی تو نہیں تھا وہ کسی غیر خدائی جگہ سے مقام سے انہوں نے ظلم کی اور Exploit کرنے کی اور مال لوٹنے کی اور محکوم بنانے کی طاقت حاصل کی اور ساری دنیا کے یہ حاکم بن گئے اور