خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 325

خطابات ناصر جلد دوم ۳۲۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء ہم نے آج کا پرچہ خریدا ہے۔ہمیں کچھ ملنا چاہئے اس پرچے سے جس پر ہم نے پیسے خرچ کئے ہیں۔بہر حال یہ نہیں کہ کسی پرچے سے کچھ بھی نہیں ملتا میں سمجھتا ہوں ہر پرچے سے کچھ نہ کچھ تو مل جاتا ہوگا۔الفضل ہے۔خالد ہے، انصار اللہ ہے تفخیذ الا ذہان ہے ، عورتوں کا مصباح ہے ، ان کو آج صبح میں نے جھاڑا ہے تحریک جدید ہے ، ان کا اپنا ذاتی اخبار ہے ثاقب زیروی صاحب کا لا ہور ہے یہ تو اسی طرح ممکن ہے اور بھی ہوں تو وہ اس وقت میرے سامنے ان کے نام نہیں۔ویسے اس ضمن میں یہ کہہ دوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر ترقی دی ہے کہ ساری دنیا کے مختلف ممالک میں بہت سے اخبار روزانہ یا ہفتہ وار یا ماہانہ رسالوں کی شکل میں چھپ رہے ہیں لیکن وہ تو اپنے اپنے ایک ملک کی ضروریات کو پورا کرنے والے ہیں مثلاً فرانسیسی بولنے والا ماریشس ہے وہ وہاں ان کا اپنا رسالہ چھپ رہا ہے جو ویسٹ افریقہ میں انگریزی زیادہ بولی جاتی ہے پہلے وہ صرف انگریزی میں تھا اب وہ انہوں نے بڑا اچھا ایک نیا اقدام یہ کیا ہے کہ قبائل کی زبان لینی شروع کر دی ہے بڑے بڑے جو قبائل کی زبانیں ہیں ان میں سے کسی ایک زبان کو لے کے اس میں مضمون کوئی آ جاتا ہے۔کتب جو ہیں شائع ہوئی دوران سال ایک تو ہے اردو میں مسیح ہندوستان میں اور انگریزی میں اس کا ترجمہ ابھی اس موقع پر جو لندن میں کا نفرنس ہوئی ہے کہ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی رحمت نے صلیبی موت سے بچا کر اس لعنت سے بچایا کہ جو یہود ان کی طرف منسوب کرنا چاہتے تھے۔کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جو چور، ڈاکو اور یہ اور وہ ہو اور اس کو اُس کی سزا دی جائے موت میں۔صلیب پر لٹکا کے موت تو خدا کی لعنت کے نیچے وہ آ جاتا ہے اور ہم نے مسیح کو صلیب پر لٹکا دیا اور و لعنتی تھے نعوذ باللہ وہ تو خدا تعالیٰ کے پیارے رسول تھے برگزیدہ تھے خدا سے پیار کرنے والے تھے۔لعنت کے مفہوم میں ہے کہ نہ خدا اس سے پیار کرے جس پر اپنی لعنت بھیجے۔نہ وہ شخص خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا اور پیار کرنے والا ہو۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قدرز بر دست دلائل جو ہیں وہ ہمارے ہاتھ میں دیئے ہیں کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ابھی تک پورے دلائل سے شائد فائدہ بھی نہیں اٹھایا گیا میرا خیال ہے۔ساری کتب سے اکٹھا کر کے ایک کتاب میں کسی وقت شائع کر دیئے جائیں انشاء اللہ لیکن ایک کتاب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام