خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 324
خطابات ناصر جلد دوم ۳۲۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء روحانی طور پر وہ دنیوی سائینسز سے ، دنیوی علوم سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دنیا کے علوم دنیوی زندگی جو ایک چھوٹی سی زندگی ہے چالیس، پچاس، ساٹھ ،ستر ، استی ، سوسال سمجھ لو۔اس کے کام آتے ہیں لیکن دین کی باتیں تو ایک ابدی زندگی نہ ختم ہونے والی زندگی خدا تعالیٰ کے بڑے پیاروں کو حاصل کرنے والی زندگی ، اس کے ساتھ تعلق ہے۔تو جو کتابیں چھپنی چاہئیں جماعت کی طرف سے وہ پوری نہیں چھپ رہیں اس کی طرف بھی ہمیں توجہ کرنی پڑے گی۔مثلاً اب میں جاتا ہوں یورپ بیدار ہوا ہے، یورپ میں دنیا کے ہر ملک اور دنیائے اسلام کے ہر فرقہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے وہاں مسلمان ہیں اور وہ فضا جو چونکہ مذہبی لحاظ سے مثلاً جرمنی ہے مذہبی لحاظ سے الا ما شاء اللہ غیر متعصب فضا میں جب خاندان جاتے ہیں تو اس وقت پھر وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں ہمارے بچے دین سے دور جا رہے ہیں ان بچوں کے لئے آپ دینی معلومات کی کتب ہمیں مہیا کریں۔دعا کریں اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دے کہ وہ ان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے جو بچے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ان کو صحیح اسلام سکھانے کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اقوال ہیں۔کہ کھانا کس طرح کھانا ہے، آداب کیا ہیں۔چلنے پھرنے کے آداب کیا ہیں، ہم بھول گئے ہیں ہمارے بازاروں میں بازار کے آداب جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں ان کا بھی نہ علم ہے نہ اس کے اوپر عمل ہو رہا ہے۔ہمارے علماء کو چاہئے اس طرف توجہ دیں۔ہماری زندگی کی کایا پلٹ ایک انقلابی تبدیلی آنی چاہئے تاکہ پتہ لگے کہ ہم اللہ اور محمد کی طرف جائز طور پر منسوب ہونے والے ہیں محض زبانی دعوی نہیں ہے۔بہر حال جو کتابیں چھپتی ہیں تھوڑی سی ان کی طرف تو توجہ ہونی چاہئے۔جو چھپتا ہے اس میں کتابیں نہیں صرف اس میں اخبارات ہیں اس میں، ہفتہ وار ہیں اس میں دو ہفتہ رسالے ہیں، اس میں ماہانہ رسالے ہیں، اس میں quarterly تین مہینے کے بعد ایک چھپنے والا جو بہت علمی ہیں رسالے ایسے بھی ہیں دنیا میں جو سال میں صرف چار دفعہ چھپتے ہیں۔تین تین مہینے کے بعد چھپتے ہیں۔ہمارے جو چھپنے والے ہیں ان میں اچھے مضمون بھی ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جن کے متعلق۔بڑی سخت تنقید ہوتی ہے پرچے کے متعلق۔اور میرے پاس خطوط آجاتے ہیں کہ آپ توجہ دلائیں کہ اس الفضل میں کوئی ایسا مضمون نہیں تھا جو ہماری تسلی کرا تا کہ