خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 300
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء پھل نہیں کھاتا اس کے لئے پھل طیب نہیں ہے اس کے اندر سے آواز ہے نہیں کھانا چھوٹا ہوتا تھا کبھی بہت زیادہ دیر کرے اور میں نے جو اس کو زیادہ سے زیادہ سزا دینی ہوتی تھی تو یہ میں کہا کرتا تھا کہ دیکھو تم بعض آجاؤ اور اب یہ حرکت نہ کرنا ورنہ میں تمہیں کیلا کھلا دوں گا تو وہ شور مچاتا تھا کہ چا ابا بالکل نہیں مجھے کیلا نہ کھلا ئیں میں یہ بات نہیں کروں گا تو وہ طیب نہیں ہے اس کے لئے اور یہ تو ایک رخ ہے نا اس کا ، ہر فرد کا دائرہ استعدا د مختلف ہے۔جسمانی طور پہ بھی اس کے لئے متبادل غذا کا جو دوسری جگہ حکم ہمیں ملتا ہے ہر فرد کا توازن مختلف ہے۔اتنی تفصیل میں انسان نہیں جاتا اس لئے اس نے گروہ بنالئے۔گروہ گروہ کی تقسیم ہوگئی کہ یہ ایسا گر وہ ہے مثلاً اس عمر تک یہ کھانے دو۔اس کے بعد یہ کھانے دو اور یا ان علاقوں میں جو گرم علاقے ہیں ان میں گوشت زیادہ نہ کھاؤ ترکاریاں زیادہ کھاؤ جو ٹھنڈے علاقے ہیں ان میں گوشت زیادہ کھاؤ یا جن کی طبیعتیں جو ہیں وہ گرمی کی طرف مائل ہیں وہ زیادہ گوشت نہ کھائیں یا جن کے جسموں میں نقرس کی تکلیف ہے یورک ایسڈ آ جاتا ہے وہ گوشت نہ کھائیں۔یہ تقسیم اپنی چلی ہے لیکن ہر فرد کی بھی ہے لیکن ہم اس کے اندر نہیں جاتے گروہ ہم نے بنالئے۔تو ایک تو حلال کے ساتھ طیب کی یہ شرط لگائی دوسرے مفردات میں ہے کہ طیب اس کو کہتے ہیں وہ کھانا یعنی حلال ہے لیکن طیب تب بنے گا جب اسے جائز طریق سے حاصل کیا گیا ہو۔طیب کے معنی ہیں وہ کھانا جسے جائز طریق سے حاصل کیا گیا ہو عام طور پر کسی زمانہ میں ہمارے ملک میں ہوتی تھی میرا خیال ہے احمدیوں میں یہ نہیں ہوگی کہ زمیندار دوسرے کے کھیت ہر زمیندار دوسرے کے کھیت میں سے گنا کاٹ کے چوپ جاتا تھا اور برابر کر دیتا تھا حساب۔یعنی اس نے ادھر کے کھا لئے اُس نے اُدھر کے کھالئے۔تو طیب نہیں ہے وہ۔طیب وہ کھانا ہے جو جائز طریقے سے حاصل کیا جائے۔دوسرے یہ کہ وہ جائز جگہ سے حاصل کیا جائے مثلاً جائز جگہ کی میں مثال دیتا ہوں کہ وہ بطخیں جو گندی نالیوں میں چرتی رہتی ہیں ان کے گوشت میں بھی اور انڈے میں بھی بڑی بد بو ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق گندی نالیوں میں اپنی غذا تلاش کرنے والی بلخ جو ہے وہ طیب نہیں ہے انسان کے لئے۔وہ نہیں کھانی چاہئے اس کے لئے حوض رکھیں بطخوں کے ساتھ۔