خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 299
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۹ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہے خدا کی مخلوق کو بھوکا کیسے مارے گا۔وہ مسکین کو کھانا کھلاتے ہیں، مسلمان مسکین نہیں ، مسکین کو ، يتيمًا خواہ وہ مسلمان ہو یا کا فر ہو، خواہ وہ موحد ہو یا بت پرست ہو، اسے وہ کھانا دیتے ہیں۔اور وہ یتیم کی غذا کا انتظام کرتے ہیں مومن اور کافر کے فرق کے بغیر اس ٹیرا اور اسیر کی اور اس زمانے میں جس زمانے میں انہوں نے عمل کر کے دکھایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوہ بنے۔اس وقت تو اسیر تھا ہی غیر مسلم۔یعنی وہاں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ مسلمان بھی اسیر ہے۔مسلمانوں کے پاس اور تھا ہی غیر مسلم اور اعلان یہ کر دیا کہ غیر مسلم ہوں گے یہ نہیں کہا کہ خدا کا واسطہ ہے لیکن تمہارا یہ فرض ہے کہ بھوکا رکھنے کے نتیجہ میں جو جسمانی طاقتیں کمزور ہوتی ہیں اس کمزوری پیدا کرنے کی تمہیں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ویسے ضمنا جسم کی جو پرورش ہے اس سلسلے میں میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ نے کھانے کے متعلق ، غذا ہمارے جسموں کی زیادہ تقویت کرنے والی ہے ویسے ہوا ہے پانی ہے ہمارے لباس ہیں وہ ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں لیکن بڑی چیز کھانا ہے غذا ہے جو ہمیں ملتی ہے۔- غذا کے متعلق حکم یہ دیا وَ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلَلاً طيبا ( المايدة : ۸۹) کہ جو اللہ تعالیٰ نے رزق دیا ہے حلال اور طیب کھاؤ۔حلال کا جو لفظ ہے اس کے معنی ہیں جو ہر مسلمان کے لئے حلال ہے۔مثلاً بکرا ہے، بکرے کا گوشت یہ نہیں کہ کسی کے لئے حلال ہے اور کسی کے لئے حرام ہے۔سارے مسلمانوں کے لئے حلال ہے نا۔بکرا تو اس کو حلال کہتے ہیں یعنی جس کا اطلاق مسلمان دنیا سے تعلق رکھتا ہے وہ چیز حلال ہے زید کے لئے بھی حلال ہے بکر کے لئے بھی۔پاکستانی مسلمان کے لئے بھی اور قریش کے رہنے والے مسلمان کے لئے بھی۔ایران کے رہنے والے مسلمان کے لئے بھی۔لیکن طیب جو ہے یہ ہر مسلمان کے لئے نہیں ہے یعنی حلال چیزوں میں سے جو طیب ہے وہ کھانا ضروری ہے۔میرے خیال میں اسلام پہلا مذہب ہے جس نے حلال کے ساتھ طیب کی شرط لگائی ہے اور طیب یہ کہتا ہے ہمیں ، طیب کا لفظ یہ ہمیں بتارہا ہے کہ ایک بات یہ بتا رہا ہے کہ جو ہر فرد کے مناسب حال ہے یعنی حلال بھی ہو لیکن کھانے والے کی جو ضرورت ہے اس ضرورت کے مناسب حال بھی ہو۔اس کی جو انتہا ہے، شکل جو نہیں ضرورت مناسب حال یعنی انتہائی شکل جو مناسب حال نہ ہونے کی صورت میں نظر آئی مجھے مثلاً میرے بھائی کا ایک بیٹا ہے وہ