خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 298
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۸ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء یہ اہل ہیں ان کو اپنی ملازمتوں کے اوپر قائم رکھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک ماہر کی ضرورت پڑی تو وہاں کوئی نہیں مل رہا تھا تو آپ نے خود حکم دے کے ایک غیر مسلم رومی کو مدینے بلایا اس کام کا چارج اس کو دیا کہ یہ تم کام کرو۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوجی محکمہ جو تھا اس میں ایک وسعت بھی پیدا کی اور اہل عجم جو اہل تھے اس کے مطابق غیر مسلموں کو عزت کے عہدے دیئے اور فوج کے جس طرح ہماری ڈویژنز ہوتی ہیں ان کو انہوں نے فوج کا ایک حصہ بنایا اور اس میں بڑے بڑے عہدے دیئے اور تاریخ میں آتا ہے کہ ڈھائی ڈھائی ہزار، دو دو ہزار تنخواہ پانے والے غیر مسلم فوجی افسر اسلامی فوج کے اندر تھے۔أنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النِّسَاء:۵۹) کا ایک مطلب یہ ہے کہ جس وقت خدا تعالیٰ کی اس سکیم اور منصوبہ کے ماتحت انسان خدا کی عطا کردہ قابلیتوں کی صحیح پرورش کرے اور نشو ونما کرے اس کے اندر اہلیت پیدا ہوگی جس حد تک ، جس میں یہ اہلیت ہو اس کے مطابق معاشرے میں اس کوفٹ کر دور نہ تو اس اہلیت کو ضائع کرنا ہے۔تو ایک لقمہ کو ضائع کرنے کی تو اجازت نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی رقابی میں اتنا ہی سالن ڈالو کہ آخری لقمہ جو تم نے کھایا ہے وہ سارا سالن ختم کر جائے ورنہ ضائع ہو جائے گا تو ایک کھانے کے ایک لقمے کو ضائع کرنے کی تو اجازت نہیں اور ایک انسان کو ضائع کر دینے کی اجازت دے دی خدا نے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النساء:۵۹) جو جس چیز کا اہل ہے اس کے مطابق اس سے سلوک ہونا چاہئے معاشرے میں وہ جگہ وہ مقام بڑا یا چھوٹا جتنی اہلیت ہے اس کے مطابق اس کے ساتھ سلوک ہونا چاہئے اور اس میں قرآن کریم نے کافر اور مسلم میں کوئی تفریق نہیں کی۔پھر سورۃ دہر میں فرمایا کہ میرے بندے وہ ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور جو کھانے والے ہیں، بے شمار مخلوق اس کی جاندار، کیڑوں سے لے کے انسان تک سب کو ان کا کھانا دے رہا ہے۔خدا نے کہا ہے کہ میں ان کو دے دیتا ہوں تم گھبرا جاتے ہو اپنے متعلق تو وہ رنگ چڑھانا ہے ناں اپنے مطابق وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتيما و أسيرًا (الدھر: ۹) جو خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت ایک مومن کو ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاتا ہے وہ پھر خدا تعالیٰ کی محبت کے واسطے یعنی اس لئے کہ وہ محبت تقاضا کر رہی ہے اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔خدا سے پیار کر رہا