خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 297
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۷ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء واپس کرو یعنی جب ساری ہماری قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں خدا تعالیٰ کی ہمارے پاس بطور امانت کے ہیں تو واپس کرنے کا مطلب ہے کہ جس طرح وہ کہتا ہے اس کی چیز ہے نا پھر جس طرح وہ کہتا ہے اس طرح استعمال کرو۔اگر تمہاری چیز ہوتی تم کہتے اے خدا ساڈی چیز اے جس طرحاں مرضی ایس نوں استعمال کریئیے۔جو خدا نے کہا تہاڑی ہے اسی نہیں ، میری اے۔تو امانتیں تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء: ۵۹) امانت جس کی ہے خدا نے یہ طاقتیں دیں خدا کی ہدایت کے مطابق ان کو استعمال کرو اور دوسری بات اس میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ پائی جاتی ہے یعنی یہ سارا منصوبہ بنا کے، ایسا ماحول پیدا کر کے کہ خدا تعالیٰ نے جو قوتیں اور صلاحیتیں پیدا کی ہیں ان کی کامل نشو و نما ہو جائے یعنی ایسے سامان پیدا کر دئیے۔ایک وقت میں ہوا ایسا مثلاً خلافت راشدہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اور آپ کے بعد خلافت راشدہ کا ہم اس لئے نام لیتے ہیں کہ اس وقت باہر سے بھی لوگ آ کے غیر مسلم اس معاشرے میں شامل ہو سکتے تھے ، ہو گئے تھے، کر لئے جاتے تھے تینوں شکلیں ہمیں نظر آتی ہیں۔تو جس کی قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشو و نما ہوگئی کسی فیلڈ میں کسی بھی جہت سے اس لحاظ سے جو اس کا مقام معاشرے میں ہے وہ اس کو ملنا چاہئے یہ نہیں کہ فلاں جو ہے ان کو نوکریوں سے برخاست کر دو اور فلاں کو نہ کرو یہ قرآن کریم نہیں کہتا قرآن کہتا ہے تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:۵۹) جو Appointments ہیں جہاں تم نے کسی کو عہدہ دینا ہے یا نوکری دینی ہے اس کی اہمیت کو دیکھو کہ وہ اس کام کا اہل ہے یا نہیں ہے۔اور جب ہم اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ خلافت راشدہ میں یہ جو ز کوۃ وغیرہ کا نظام تھا تو اس وقت عرب ویسے تو حساب ان کو زبانی تو بڑے آتے تھے لیکن یہ کہ لیجر بنے ہوئے ہوں اور کتابوں پر لکھا جائے سارا آمد و خرچ وغیرہ یہ رواج ہی نہیں تھا وہاں ، کاغذ کا ہی رواج نہیں تھا تو اس تمام دفتر جو تھے جو شعبے تھے ان میں فارسی اور شامی اور رومی اور قبطی ان زبانوں میں یہ تھا اور حضرت عمرؓ کے عہد میں خوراک کے محکمہ میں جس طرح قدیم سے فارسی لوگ ، فارسی غیر مسلم ، ایران کے غیر مسلم، یونان کے غیر مسلم مصر کے غیر مسلم ، فارسی، یونانی اور قبطی ملازم تھے آپ سے پہلے آپ نے ان کو کہا کہ